شدت پسندوں کی مدد کا الزام | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں موجود امریکی فوجی کمانڈر نے ایران پر الزام لگایا ہے کہ وہ خفیہ طور پر عراق کے شیعہ شدت پسندوں کی مدد کر رہا ہے۔ پینٹاگون میں خطاب کرتے ہوئے اعلیٰ امریکی کمانڈر جارج کیسی نے کہا کہ ایران شیعہ شدت پسندوں کو تربیت دے رہا ہے اور حال ہی میں اس کا اثر رسوخ بڑھ گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عراق میں خود ایرانیوں کے یہ کام کرنے کے شواہد نہیں ہیں لیکن اندازہ ہے کہ تہران کے ایما پر یہ کام ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا جنوری سے شیعہ شدت پسندوں کے لیئے حمایت میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’وہ اپنے قائم مقام افراد کے ہاتھوں ہمارے اور عراقی عوام کے خلاف دہشت گرد کارروائیاں کروا رہے ہیں‘۔ انہوں نے کہا کہ شاید تربیت ایران یا لبنان میں کسی جگہ دی جا رہی ہے۔ انہوں نے اس خدشے کا بھی اظہار کیا کہ ایران کے حمایت یافتہ حزب اللہ کے گوریلے عراقی ملیشیا کو تربیت دے رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس سال عراقی سے کچھ امریکی فوجی واپس بلا لیئے جائیں گے۔ تاہم اس بارے میں ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔ | اسی بارے میں ایران کو صدر بش کا نیا انتباہ20 June, 2006 | آس پاس عراق تشدد: 41 ہلاک، سو زخمی17 June, 2006 | آس پاس شیعہ مسجد پر حملہ، گیارہ ہلاک16 June, 2006 | آس پاس ’عراق میں القاعدہ خاتمے کی جانب‘15 June, 2006 | آس پاس ایران ایٹم بنا سکے گا یا نہیں؟03 June, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||