شیعہ مسجد پر حملہ، گیارہ ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بغداد میں پولیس ذرائع کے مطابق جمعہ کو ایک شیعہ مسجد پر خودکش حملے میں کم از کم گیارہ افراد ہلاک اور بیس کے قریب زخمی ہو گئے ہیں۔ بغداد میں وزیر اعظم نوری الماکی کے حکم پر سکیورٹی کے انتظامات سخت کرنے کے بعد سے دارالحکومت میں پیش آنے والا تشدد کا یہ پہلا واقعہ ہے۔ شیعہ مسجد پر یہ حملہ جمعہ کی نماز سے کچھ سے قبل کیا گیا۔ مسجد کے امام شیخ جلال الدین نے جو نو منتخب عراقی پارلیمان کے سرکردہ رکن بھی ہیں بی بی سی کو بتایا کہ اس حملے کا ممکنہ ہدف وہ تھے۔ حکومت ابو معصب الزاقاوی کی امریکی فوج کے حملے میں ہلاکت کے بعد تشدد کے واقعات میں اضافے کی توقع کر رہی تھی۔ گزشتہ ہفتے وزیر اعظم نوری الماکی نے عراق میں سکیورٹی کے انتظامات سخت کرنے کے احکامات جاری کیئے تھے، جن کے تحت شہر کی سڑکوں پر چالیس ہزار کے قریب سکیورٹی فورسز کے اہلکار تعینات کر دیئے گئے تھے، شہر میں رات کا کرفیو بھی لگا دیا گیا اور نماز جمعہ سے قبل گاڑیوں کے بھی سڑکوں پر آنے پر پابندی لگا دی گئی تھی۔ دو ماہ قبل بھی دو خودکش حملہ آواروں نے اسی مسجد کو نشانہ بنایا تھا جس میں پچاس کے قریب لوگ ہلاک ہو گئے تھے۔ | اسی بارے میں عراق: تین سال میں ہزاروں جانیں ضائع 16 June, 2006 | آس پاس ’عراق میں القاعدہ خاتمے کی جانب‘15 June, 2006 | آس پاس بغداد میں چالیس ہزار فوجی تعینات14 June, 2006 | آس پاس بغداد: کم از کم پچاس افراد اغوا05 June, 2006 | آس پاس قتلِ عام کی ویڈیو، تحقیقات کا آغاز02 June, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||