 | | | غزہ کے اندر اور آس پاس کے علاقوں میں مسلسل دھماکے سنے گئے |
سنیچر کے روز اسرائیل کے حملے کے وقت غزہ میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار رُشدی ابو الوف نے حالات کا یوں تذکرہ کیا ہے: ’ہم وسطی غزہ میں اپنے دفتر سے دیکھ سکتے ہیں کہ ایمبیو لینس عمارت سے زخمیوں کو باہر نکال رہی ہیں اور سکول کے بچے محفوظ مقام تلاش کرنے کی کوشش میں ہیں۔ جو لوگ کام پر جا رہے تھے وہ واپس اپنے گھر چلے گئے۔ غزہ میں وزارتِ صحت نے تمام لوگوں کو گھروں میں رہنے کی ہدایت کی ہے۔غزہ میں مسجد سے لوگوں سے اپیل کی جا رہی ہے کہ وہ ہسپتالوں میں جا کر خون کا عطیہ دیں۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ آپریشن تھیئٹر اور مردہ خانے بھر چکے ہیں اورمزید لاشیں رکھنے کے لیے ان کے پاس جگہ نہیں ہے۔ صورتِ حال بہت ہی خراب ہے۔ اسرائیلی طیارے ہرطرف بمباری کرتے نظر آر ہے ہیں چاروں سمت دھواں ہی دھواں نظر آ رہا ہے۔ہر سمت افراتفری مچی ہوئی ہے لوگوں کی واحد کوشش اپنے اور اپنے گھر والوں کے لیے محفوظ مقام تلاش کرنا ہے۔ غزہ میں کوئی محفوظ مقام نہیں ہے۔ حماس کے سکیورٹی کمپاؤنڈ شہر کے وسط میں ہے۔ میں نے ایک اسرائیلی جنگی طیارے کو ایک عمارت پر بم برساتے دیکھا جس کے نتیجے میں وہ عمارت زمین بوس ہوگئی۔ عمارت کے ملبے سے دھواں اُٹھ رہا تھا اور بچے روتے بلکتے نظر آرہے تھے۔زخمیوں اور لاشوں کو ملبے سے نکالنے میں امدادی ٹیموں کے چھ گھنٹے لگے‘۔ |