فلسطینی پناہ گزین آج بھی انتظار میں ہیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وہ مقام جہاں پر اسرائیل کی زرخیر زمین اپنی تمام تر نرمی کھو کر صحرا کی صورت اختیار کر لیتی ہے وہاں کیبوتض یاد موردخائی نامی ایک بستی آباد ہے۔ موسمِ بہار کی کسی بھی شام یہاں چلے جائیں یہ جگہ بڑی ہی دلپذیر لگتی ہے۔ یہاں کے رہائشی مویشی پالتے ہیں، فصلیں اگاتے ہیں اور اسرائیل کا بہترین شہد بھی یہیں سے جنم لیتا ہے۔ ساٹھ سال قبل اس بستی کے رہنے والے اپنے بچاؤ کی جنگ میں مصروف تھے۔ برطانوی جو سنہ انیس سو سترہ سے فلسطین کے حکمران تھے، وطن واپسی کی تیاریوں میں تھے۔ لیکن جاتے جاتے وہ اپنا قانونی نظام یہاں چھوڑے جا رہے۔ اور ساتھ ساتھ جنگ اور افراتفری بھی۔ چودہ مئی سنہ انیس سو اڑتالیس کو سہ پہر چار بجے اسرائیل کے پہلے وزیرِ اعظم ڈیوڈ بین نے تل ابیب کے ایک ہال میں آزادی کی دستاویز پڑھ کر سنائی۔ نصف شب سے ذرا پہلے، رائل نیوی کا ایک جنگی جہاز جس میں برطانیہ کے آخری کمشنر بھی تھے، فلسطین کے پانیوں کو چھوڑ کر برطانیہ کے سفر پر چل نکلا تھا۔ اگلی صبح تک اردن، شام، عراق، لبنان اور مصر کی فوجیں اس علاقے میں داخل ہوئیں جسے برطانوی چھوڑ کر جا رہے تھے۔ یاد موردخائی ایسے راستے پر واقع بستی تھی جہاں سے مصری حملہ آور ہوا کرتے تھے اور تل ابیب جانے کا راستہ بند کر دیتے تھے۔ اور اس بستی کے رہائشی اسرائیلی جس طرح اپنا دفاع کرتے تھے، اس وجہ سے یہ جگہ رفتہ رفتہ اسرائیلیوں کے لیے مزاحمت کی علامت بن گئی۔
اگرچہ یہ بستی اسرائیل کے ہاتھوں نکل گئی لیکن مصریوں کو یہاں اتنی دیر رکنا پڑا کہ اسرائیل فوجی نے شمال کی جانب نئی دفاعی لائن تیار کر لی جہاں پیش قدمی کرتے ہوئی فوج کو روکا اور واپس بھیجا جا سکتا تھا۔ کیبوتض کو پولینڈ کے یہودی تارکین نے آباد کیا تھا جو صدیوں کے آزار سے فرار چاہتے تھے اور فلسطین میں ایک نئی زندگی اور ایک نئی قسم کی ریاست بنانا چاہتے تھے۔ سنہ انیس سو تینتالیس میں اس جگہ کا نام اس یہودی کے نام پر موردخائی رکھا گیا جس نے وارسا میں نازیوں کے خلاف صدا بلند کی تھی۔ ہولو کاسٹ کی وجہ سے یہودی ریاست کے حق میں ایک زوردار اخلاقی دلیل نے جنم لیا اور کیبوتض وہ جگہ ہے جہاں جا بجا تاریخ بکھری پڑی ہے۔ یہیں پر ہولو کاسٹ میوزیم بھی ہے۔ یہاں کے باسیوں نے پانی کے اس مینارے کو بھی محفوظ کر لیا ہے جسے انیس سو اڑتالیس میں توڑ پھوڑ دیا گیا تھا۔ اگرچہ جنگیں کبھی رکی نہیں لیکن اسرائیل نے اپنی فتح کے بعد چھ عشروں میں اپنی قوم تیار کرنے میں زبردست کامیابی حاصل کی ہے۔ یہودی پناہ گزینوں اور مہاجروں کو ایک نئی ریاست میں سمو لیا گیا ہے جہاں پارلیمانی جمہوریت، نظامِ حکومت ہے، ٹیکنالوجی سے استفادہ کرتی ہوئی معیشت ہے اور جوہری ہتھیار بھی۔ اس اسرائیلی ریاست کا قریب ترین حلیف امریکہ ہے اور اس ساٹھویں سالگرہ کے موقع پر اسرائیلی اور دنیا بھی میں اس کے دوستوں کے لیے خوشیاں منانے کی بہت سی وجوہات ہیں۔ لیکن یہاں تک کہانی آدھی ہے۔ اس کہانی کے نصفِ باقی کو دنیا فلسطین کے نام سے جانتی ہے۔ کیبوتض یاد موردخائی کے رہنے والوں اور اسرائیل کے نام سے ملک بننے والی زمین کے دیگر سبھی باسیوں کو فلسطینی عرب ہمسایوں سے سابقہ رہتا تھا۔ یہ فلسطینی عرب، پیشے میں کاشتکار تھے جن کی نسلوں نے صدیوں سے یہی کام کیا تھا۔ ہر برس فلسطینیوں کو اسرائیل کی یہ سالگرہ اس واقعے کی یاد دلاتی ہے جسے وہ ’النقب‘ یا آفت کہتے ہیں۔ فلسطینوں کے لیے گزشتہ ساٹھ برس ترکِ ملکیت اور جلا وطنی ہی لائے ہیں۔ سنہ انیس سو اڑتالیس میں فلسطینی معاشرہ جنگ کے وزن میں دب کر رہ گیا۔ سنہ انیس سو سینتالیس کے آخری مہینوں سے لیکر سنہ انیس سو اننچاس کے اوائل تک تقریبا سات لاکھ فلسطینیوں کی حیثیت بدل کر پناہ گزینوں کی بن گئی۔ وہ جس زمین پر کاشتکاری کرتے تھے وہ تو اسرائیل بن چکی تھی۔ ان میں سے بہت سوں کو طاقت کے بل پر زمین بدر کر دیا گیا یا پھر وہ ہلاکت کے خوف سے یہ جگہ چھوڑ گئے۔ان کی املاک غصب کر لی گئیں اور انہیں واپسی کا پروانہ کبھی نہ مل سکا۔
اقوامِ متحدہ کا وہ ادارہ جو فلسطینوں کا اندراج کرتا ہے اس کے کاغذوں میں اس وقت تقریباً پینتالیس لاکھ فلسطینیوں کی حیثیت پناہ گزینوں کی ہے۔ بہت سے فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی کامیابی ان کے نقصانات کی بنیاد پر استوار ہوئی ہے۔ اگر آپ معلوم کرنا چاہتے ہیں کہ کیبوتض یاد موردخائی میں اسرائیل کے قدیمی ہمسایوں نے اس بستی سے نکلتے ہوئے کیا کیا چھوڑا ہے، تو آپ کو کئی چیزوں کا علم ہونا ضروری ہے۔ فلسطینیوں کے جانے کے بعد اسرائیل نے ان کے دیہات اجاڑ دیئے۔ فلسطینی کسان ناگ پھنی نامی کانٹے دار پودے کو باڑ کے طور پر استعمال کرتے تھے۔ ایسی زمین جہاں دو قومیں ایک دوسرے سے زیادہ فاصلے پر نہیں رہتیں، ان میں کئی باتیں مشترک ہوتی ہیں۔ ان کا پھل بھی۔ کانٹا نما یہ پھل آج بھی مقامی اسرائیلیوں کے لیے قومی علامت ہے۔ اسے عبرانی زبان میں صابرہ کہتے ہیں کہ وہ باہر سے نوکیلا اور اندر سے میٹھا ہوتا ہے۔ اگرچہ یاد موردخائی کے سابق عرب ہمسایے کیبوتض سے دیکھے نہیں جا سکتے لیکن وہ یہاں سے زیادہ فاصلے پر بھی نہیں۔ یہ جگہ غزہ کے داخلے کے مقام سے صرف دو میل دور ہے۔ پر ہجوم غزہ میں آج چودہ لاکھن فلسطینی رہتے ہیں اور اسے دنیا کی سب سے بڑی جیل قرار دیتے ہیں۔ ان میں سے بیشتر پناہ گزین ہیں۔ یہاں بچے بڑے ہوتے ہیں تو انہیں اپنے دیہات کے بارے میں بتایا جاتا ہے اگرچہ ان کے والدین یا دادا دادی میں سے کوئی بھی ان دیہاتوں میں نہیں جا سکا۔ پناہ گزینوں نے اپنا گھر کیوں چھوڑا تھا اس پر تاریخ دانوں میں بڑی لے دے ہے اور خود رہنما اور سرگرم کارکن بھی اس معاملے پر الجھے رہتے ہیں۔ اس تنازعے کا محور پلان ڈی ہے جسے مسٹر ڈیوڈ بین اور ان کے جرنیلوں نے مارچ انیس سو اڑتالیس میں اختیار کیا تھا۔ بعض مؤرخ کہتے ہیں کہ یہ فلسطین سے عربوں کی نسلی صفائی کا پروانہ تھا جبکہ کچھ دوسروں کا کہنا ہے کہ یہ دستاویز فوجی اہمیت کی جگہ کو قبضے میں کرنے کا ایک منصوبہ تھی اور عربوں کو مستقبل کی ریاست سے باہر رکھنے کی خاطر کسی قسم کی کوئی سیاسی سکیم تیار نہیں کی گئی تھی۔ لیکن سیاسی طور پر یہ بہت متنازع موضوع ہے کیونکہ مسئلہ کے اسباب پر اتفاق ہی شاید مسئلے کے حل میں کام آ سکے۔ فریقین اپنے اپنے نقطۂ نظر کو ترک بھی نہیں کرنا چاہتے۔
اسرائیل کے صدر شیمون پیریز نے جو سنہ انیس سو اڑتالیس میں ڈیوڈ بین کے مُمِد تھے، بی بی سی کو بتایا کہ یہ دستاویز فلسطینوں کی نقل مکانی کی ذمہ دار نہیں۔ ’میں اس وقت وہاں موجود تھا اور مجھے بالکل پروا نہیں کہ مؤرخ کیا لکھتے ہیں۔ مجھے معلوم ہے کہہ بین نہیں چاہتے تھے کہ عرب ملک سے چلے جائیں۔‘ اردن کے سابق وزیرِ خارجہ جو 1948 میں یروشلم میں صحافی تھے اسرائیلی صدر کی بات پر حیرانی کا اظہار کرتے ہیں۔ ’یہ کہنا کہ فلسطینیوں کی نقل مکانی کی ذمہ دار وہ دستاویز نہیں تو پھر یہ نقل مکانی کس وجہ سے ہوئی۔‘ وہ کہتے ہیں کہ اسرائیلیوں نے اپنے سامنے آنے والے لوگوں کو تہہ تیغ کر دیا۔ ’اسرائیلیوں نے پورے ملک میں بے شمار افراد کو موت کی نیند سلا دیا۔ آپ مجھے بتائیں کہ اگر کسی کو جان کا خطرہ نہ ہو تو کیا وہ کسی اور وجہ سے اپنا گھر چھوڑ کر جائے گا؟‘ آج طاقت حاصل کرنے کے باوجود کچھ اسرائیلی خوفزدہ بھی ہیں۔ انہیں فلسطینی قوم پرستی سے ڈر لگتا ہے۔ اسلامی انتہا پسندوں سے ڈر لگتا ہے جو یہودیوں کو نشانہ بناتے ہیں۔انہیں ایران سے ڈر لگتا ہے۔ لیکن اسرائیلیوں کی نسبت بہت زیادہ فلسطینی گھروں سے اور زندگیوں سے محروم ہوتے ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ وہ آفت جو سنہ 1948 میں آئی تھی کبھی ختم نہیں ہوئی۔ امریکی صدر جارج بش کی طرف سے شروع کردہ حالیہ امن عمل ماضی کی تمام ایسی کوششوں کی طرح ناکام ہوگا جبتک وہ ان مسائل کا احاطہ نہ کرے جن کا تعلق براہِ راست 1948 کے واقعات سے ہے۔ دونوں قوموں کی علیحدگی ایجنڈے پر ہے جیسے یہ ساٹھ سال قبل بھی تھی کیونکہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان زمین تقسیم ہونی ہے۔ دونوں فریق یروشلم کو اپنا کہتے ہیں اور فلسطینی پناہ گزین . . . .وہ بس انتظار میں ہیں۔ | اسی بارے میں ’اسرائیلی ریاست ختم ہو جائی گی‘30 November, 2007 | آس پاس فلسطینی ریاست: ایک اور ملاقات06 May, 2008 | آس پاس اس سال امن معاہدے کی توقع05 May, 2008 | آس پاس امریکہ: اسرائیلی جاسوس پر مقدمہ23 April, 2008 | آس پاس اسرائیل:’امریکی عہد غیر متزلزل‘ 23 March, 2008 | آس پاس ’فلسطینیوں کا نسلی صفایا کیا جا رہا ہے‘14 March, 2008 | آس پاس نئی یہودی بستیوں کی تعمیر منظور09 March, 2008 | آس پاس حماس کی بیسویں سالگرہ پر ریلی15 December, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||