حماس کی بیسویں سالگرہ پر ریلی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فلسطین کی شدت پسند تنظیم حماس کے قیام کے بیس سال مکمل ہونے پر غزہ شہر میں نکالی جانے والی ریلی میں ڈیڑھ لاکھ افراد نے شرکت کی ہے۔ ریلی نکالے جانے والے وسیع سکوائر پر فلسطینی مردوں، خواتین اور بچوں نے ہاتھوں میں ہرے جھنڈے اور بینرز اٹھا رکھے تھے۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ریلی میں عوامی شرکت کو حماس کی حمایت کے ایک اہم امتحان کی حیثیت سے دیکھا جا رہا ہے جس نے جون میں اپنی حریف جماعت الفتح پارٹی کے ہاتھوں سے غزہ کا کنٹرول چھین لیا تھا۔ تنظیم کی سالگرہ کے موقع پر حماس کی ویب سائٹ پر جاری کیے جانے والے ایک بیان میں حماس کے جلاوطن رہنما خالد مشعل نے گروہ کی جانب سے تشدد کی راہ کو نہ چھوڑنے کے عزم کو دہرایا۔ شام کے دارالحکومت دمشق سے اپنے ایک خطاب میں خالد مشعل کا کہنا تھا کہ فلسطینی سرزمین پر اسرائیلی قبضے کے خلاف 1987 اور 2000 کی مزاحمتی تحریکوں (انتفادہ) کی طرح فلسطینی اسرائیل کے خلاف ایک نئی جنگ کے لیے پوری طرح سے تیار ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ جو کوئی بھی یہ سوچتا ہے کہ حماس ختم ہونے کے قریب ہے وہ غلط سوچتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فتح کے رہنما اور غرب اردن میں اعتدال پسند حکومت چلانے والے فلسطین کے صدر محمود عباس، کے پاس اسرائیل سے مذاکرات کے لیے عواعی مینڈیٹ موجود نہیں۔ سنیچر کو ریلی کے مقام کے قریب واقع ایک عمارت پر ایک بڑا بینر نصب کیا گیا جس پر تحریر تھا: ’ہم اسرائیل کو تسلیم نہیں کریں گے‘۔ یروشلم میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ سالگرہ کے موقع پر نکالی جانے والی ریلی دراصل حماس کی جانب سے غزہ میں اپنی طاقت کے مظاہرے کا اظہار ہے۔ غزہ کو ان دنوں شدید سیاسی اور معاشی بحران کا سامنا ہے۔ فتح اور حماس پارٹی کے درمیان تناؤ کی شدت برقرار ہے۔
نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ حماس کو امید ہوگی کہ ان کی ریلی میں گزشتہ ماہ اسی مقام پر فتح پارٹی کی ریلی میں شرکت کرنے والے کارکنوں کی تعداد سے زائد افراد شرکت کریں گے جس میں ایک اندازے کے مطابق ڈھائی لاکھ سے زائد افراد نے شرکت کی تھی تاہم اس ریلی کے اختتام پر حماس کی سکیورٹی فورسز کی جانب سے فائرنگ سے متعدد افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ اطلاعات کے مطابق فتح پارٹی نے غرب اردن میں حماس کے قیام کی بیسویں سالگرہ کے حوالے سے ہونے والی کسی بھی قسم کی تقریب کے انعقاد پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔ جمعہ کو فلسطین کے وزیراعظم کے ایک اہم مشیر کو اسرائیل کے ساتھ تعاون کرنے کے الزام پر حماس کے مسلح کارکنوں نے حراست میں لے لیا تھا۔ اسی دن غزہ شہر میں فتح پارٹی کے کارکن کے جنازے میں ہونے والے ایک دھماکے میں تین افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ فتح نے اس دھماکے کی ذمہ داری حماس پر عائد کی ہے۔ جون میں حماس کے غزہ پر قبضے کے بعد سے اسرائیل نے غزہ کو جانے والے تمام اہم سرحدی راستے بند کر رکھے ہیں جس کی وجہ سے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق ’ناقابل برداشت‘ انسانی بحران پیدا ہو گیا ہے۔ حماس جس کو اسرائیل کے علاوہ یورپی یونین اور امریکہ ایک دہشت گرد تتنظیم گردانتے ہیں، اس کی بنیاد غزہ میں دسمبر 1987 میں اسرائیلی قبضے کے خلاف کسی پہلی مزاحمتی تحریک کے طور پر رکھی گئی تھی۔ |
اسی بارے میں غزہ: حماس کمانڈر ہلاک، 30 زخمی10 June, 2007 | آس پاس الفتح علاقہ خالی کر دے: حماس12 June, 2007 | آس پاس غزہ حماس کے مکمل کنٹرول میں15 June, 2007 | آس پاس حماس سے مذاکرات کی اپیل05 July, 2007 | آس پاس غزہ: حماس کے دو کارکن ہلاک22 July, 2007 | آس پاس حماس کے خلاف احتجاج، جلوس01 September, 2007 | آس پاس ’اسرائیل حماس سے جنگ بندی کرے‘25 September, 2007 | آس پاس حماس الفتح سے مذاکرات کی خواہاں11 October, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||