حماس کے خلاف احتجاج، جلوس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
غزہ میں عوامی اجتماعات پر پابندی کے باوجود ہزاروں فلسطینیوں نے حماس کی حکمرانی کے خلاف احتجاج کیا اور جلوس نکالے ہیں۔ جمعہ کو مساجد کے باہر نماز کا اہتمام کیا گیا تھا جس کے بعد نمازی مظاہرے کرتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے اور نتیجتاً جھڑپوں میں بیس کے قریب افراد زخمی ہو گئے۔ احتجاج کرنے والوں نے حماس پر الزام لگایا کہ وہ شہریوں کے عام حقوق کی خلاف ورزی کر رہی ہے اور مساجد کو سیاسی پروپیگینڈا پھیلانے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔ غزہ میں بی بی سی کے نامہ نگار علیم مقبول نے بتایا ہے کہ جون میں جب سے حماس نے غزہ میں کنٹرول حاصل کیا ہے، اس کے خلاف جمعہ کو ہونے والا احتجاج سب سے بڑا تھا۔ حماس نے عوام کو خبردار کیا تھا کہ وہ ان احتجاجی مظاہروں میں شریک نہ ہوں جو اس کے مخالف دھڑوں نے جن میں الفتح بھی شامل ہے، منظم کیے تھے۔ یہ مظاہرے شہریوں کے حقوق کی خلاف ورزی کے الزام میں ہوئے۔ حماس کے ترجمان سامی ابو زہری نے بی بی سی کو بتایا کہ ہر فلسطینی کو مظاہرہ کرنے کا حق ہے لیکن بعض مظاہرین نے غزہ میں عمارتوں پر پتھراؤ کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ غزہ کی پٹی میں مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ڈنڈوں کا استعمال کیا گیا۔ ٹی وی پر دکھایا گیا کہ حماس کے سیکورٹی حکام مظاہرین کو گرفتار کر رہے ہیں اور ان میں سے بعض کو لمبے ڈنڈوں سے مارا جا رہا ہے۔ | اسی بارے میں حماس، الفتح: مزید جھڑپیں، ہلاکتیں27 January, 2007 | آس پاس حماس اور فتح کے درمیان جنگ بندی30 January, 2007 | آس پاس فلسطینی: سعودی مصالحت قبول 29 January, 2007 | آس پاس جنگ بندی کے بعد حماس کمانڈر ہلاک30 January, 2007 | آس پاس حماس: سیاست اور زمینی حقیقت27 January, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||