BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 15 June, 2007, 06:46 GMT 11:46 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
غزہ حماس کے مکمل کنٹرول میں
فلسطین
یہ خدشہ بھی ہے کہ پرتشدد کارروائیاں غرب اردن میں بھی شروع ہو سکتی ہیں
فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس کے حماس کی مخلوط حکومت کو برطرف کرنے کے چند ہی گھنٹے بعد حماس نے کہا ہے کہ غزہ مکمل طور پر اس کے قابو میں ہے۔

حماس کے کارکنوں نے صدر محمود عباس کی جماعت الفتح کے خلاف ہفتے بھر کی شدید لڑائی کے بعد غزہ شہر میں واقع صدارتی کمپاؤنڈ پر قبضہ کر لیا جس دوران الفتح کے ایک سو سے زیادہ افراد مارے گئے۔

محمود عباس کا کہنا ہے کہ ایک عبوری انتظامیہ تشکیل دی جائے گی اور جلد ہی نئے انتخابات کرائے جائیں گے، لیکن وزیر اعظم اسماعیل ہنیہ کا کہنا ہے کہ حماس حکومت اپنا دباؤ برقرار رکھے گی اور امن وامان کی صورتحال کو یقینی بنائے گی۔

جمعرات کی رات غزہ کے زیادہ تر حصوں میں حماس کے سبز پرچم لہرا دیے گئے تھے اور حماس کے حامی شہر کی گلیوں میں فتح کا جشن منا رہے تھے۔

اس سے قبل حماس کے جنگجو صدارتی کمپاؤنڈ اور سکیورٹی فورس کے ہیڈکوارٹر سمیت الفتح کی دیگر بڑی عمارتوں پر قبضہ کر چکے تھے۔ لوگوں نے دیکھا کہ الفتح کے کارکنوں کو غیر مسلح کرنے کے بعد ہانک کر لے جایا جا رہا تھا۔

غزہ میں لڑائی
حماس نے غزہ کے جنوب میں واقع الفتح کا صدر دفتر تباہ کر دیا

حماس کے عسکری بازو کے ایک ترجمان نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ’غزہ کی پٹی میں واقع صدارتی کمپاؤنڈ سمیت سکیورٹی اداروں کے تمام ہیڈکوارٹرز حماس سے منسلک ایک بریگیڈ کے کنٹرول میں ہیں۔‘

یروشلم میں بی بی سی کے نامہ نگار میتھیو پرائس کا کہنا ہے کہ صدارتی حکمنامے پر دستخط ہوتے ہی غرب اردن اور غزہ کی پٹی عملی طور پر ایک دوسرے سے الگ ہو جائیں گے اور غزہ کے معاملات حماس کے ہاتھ میں ہوں گے جبکہ غرب اردن الفتح کے کنٹرول میں آ جائے گا۔

لیکن اسماعیل ہنیہ نے اس خیال کو رد کرتے ہوئے کہا کہ ’ غزہ کی پٹی وطن کا وہ حصہ ہے جسے تقسیم نہیں کیا جا سکتا اور یہاں کے رہائشی فلسطینی عوام کا ضروری جزو ہیں۔‘ اس کے علاوہ ان کا کہنا تھا کہ وہ امن و امان سے متعلق قانونی اور یقینی اقدامات کریں گے۔

لیکن دوسری جانب محمود عباس کا کہنا ہے کہ وہ غرب اردن اور غزہ پر صدارتی حکم کے تحت حکومت کرتے رہیں گے۔

کچھ لوگوں کو یہ خدشہ بھی ہے کہ اب پرتشدد کارروائیاں غرب اردن میں بھی شروع ہو سکتی ہیں جہاں الفتح کا کنٹرول ہے۔

الفتح سے منسلک الاقصیٰ بریگیڈ نے ’مارشل لاء‘ کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہر جگہ الفتح کے لوگ تعینات کیے جائیں۔ گروپ کے ترجمان نے اپنے کارکنوں کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ انہیں چاہیئے کہ وہ ’غرب اردن کے تمام علاقوں میں حماس کو ایک غیر قانونی تنظیم کے طور پر دیکھیں اور اس کی ہر مسلح تحریک پر ہر قیمت پر قابو پائیں۔‘

صدر عباس کا فیصلہ جلد بازی پر مبنی ہے: اسماعیل ہنیہ

ادھر امریکی صدر جارج بش نے غزہ میں پر تشدد کاروائیاں روکنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ علاقے میں بڑھتے ہوئے تشدد پر ’شدید فکرمند‘ ہیں۔

وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس نے صدر عباس کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے اپنے قانونی اختیارات استعمال کیے ہیں۔

انہوں نے کہا: ’ہم فلسطینی عوام کو درپیش بحران کے خاتمے اور ان کو امن اور بہتر مستقبل کی طرف واپس جانے کا مواقع دینے کے لیے ان (صدر) کے اس فیصلے کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔‘

برطانیہ کی وزیر خارجہ مارگریٹ بیکٹ نے بھی فلسطینی حکومت کی برطرفی پر مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ایک مرتبہ پھر بندوق بردار انتہا پسندوں نے امن پر مبنی دو ریاستوں کی حامی اکثریت کی خواہشات کے برعکس علاقے میں ترقی اور بہتری کے سفر کو روک دیا ہے۔‘

گزشتہ ہفتے کی کارروائیوں کے بعد یورپی یونین نے بھی غزہ کے لیے انسانی بنیادوں پر دی جانے والی امداد روک دی ہے۔

سنہ دو ہزار چھ کے اوائل میں ہونے والے انتخابات میں حماس نے حیران کن کامیابی حاصل کی تھی لیکن اس کے بعد سے حماس اور الفتح کے درمیان سیاسی طاقت کے لیے کشمکش جاری رہی۔

حماس ایک اسلامی تنظیم ہے جسے انتفادہ تحریک کے دو ادوار کے دوران زبردست مقبولیت حاصل ہوئی اور یہ اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتی۔

دوسری جانب الفتح ایک سیکولر سیاسی اتحاد ہے جس کی قیادت محمود عباس کے پاس ہے۔ گزشتہ سال کے عام انتخابات سے قبل فلسطینی اتھارٹی کے معاملات اسی گروپ کے ہاتھ میں رہے ہیں۔ حماس کے برعکس الفتح اسرائیل کو تسلیم کرتی ہے اور یہودی ریاست کے ساتھ معاملات مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی خواہاں ہے۔

اس سے قبل وزیرِ اعظم ہنیہ نے کہا کہ صدر عباس کا حکومت برطرف کرنے کا فیصلہ جلد بازی پر مبنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس کے باوجود مخلوط حکومت کے لیے کام کرتے رہیں گے جبکہ صدر محمود عباس نے کہا کہ انہیں یہ اقدام ’غزہ کی پٹی میں مجرمانہ جنگ‘ اور ’قانون شکنوں کی طرح سے مسلح بغاوت‘ کی وجہ سے اٹھانا پڑا۔

’فلسطین کا انتشار‘
غزہ میں خونریزی کے اثرات کیا ہوسکتے ہیں؟
حماس اور فتح کے درمیان جنگ جاریآپ کیا کہتے ہیں؟
حماس اور فتح کے درمیان لڑائی، آگے کیا ہوگا؟
غزہغزہ میں ہلاکتیں
غزہ پر اسرائیل کی فوج کے فضائی حملے
بے چابی قید خانہ
اسرائیل نے غزہ کو بے چابی ’قید خانہ‘ بنا دیا ہے
غزہ والوں کا خوف
لوگ جنگ کے ممکنہ خطرے سے پریشان ہیں
اسی بارے میں
غزہ تشدد :مزید 14ہلاک
16 May, 2007 | آس پاس
غزہ تشدد :مزید 13 ہلاک
15 May, 2007 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد