غزہ تشدد :مزید 14ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
الفتح گروپ کے تقریباً پانچ سو وفادار مصر سے پولیس تربیت لے کر واپس آ گئے ہیں اور ادھرحماس اور الفتح گروپ کے درمیان جھڑپیں شدید ہوگئی ہیں۔ تشدد کے تازہ واقعات میں کم از کم 14 افراد ہلاک ہو گئے ہیں جن میں آٹھ افرادالفتح کےسکیورٹی اڈے پر حملے میں مارے گئے۔غزہ کے نزدیک فلسطینی شدت پسندوں کے راکٹ حملے میں چار اسرائیلی زخمی اور ایک عورت شدید زخمی ہوئی ہے۔ الفتح گروپ کے ایک افسر نے اس بات کی تردید کی کہ مصر سے واپس آنے والی فورس حماس سے مقابلہ کرے گی ان کا کہنا تھا کہ یہ فلسطینیوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے ہے۔ فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس نے لڑائی ختم کرنے کی اپیل کی ہے۔ لیکن یروشلم میں بی بی سی کے نامہ نگار کاتیا ایلڈر کا کہنا ہے کہ غزہ میں تازہ واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ گروہی تصادم میں شدید اضافہ ہوا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ خطہ خانہ جنگی کی سمت جارہا ہے۔ الفتح گروپ کے اہلکار توفیق ابو کھوسا نے کہا ’مصر سے واپس آنے والی فورس کا کام فلسطینی لوگوں کی حفاظت کرنا ہے نہ کہ داخلی جھگڑوں میں حصہ لینا‘۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ فورس محمود عباس کے قومی سلامتی کے مشیر محمد دہلان کی کمانڈ میں ہے۔ کئی ماہ میں اب تک کی سب سے شدیدجھڑپوں میں اتوار سے اب تک کم از کم سترہ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ ایک تقریر میں وزیراعظم اسماعیل ہنیہ نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ حکومت کو بچانے کے لیے مل کر کام کریں۔برطانیہ کی وزیر خارجہ مارگریٹ بیکٹ نے کہا ہے کہ وہ تشدد کے واقعات پر انہیں ’شدید تشویش ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ یہ تشدد بے معنی ہے اوران حالات میں غزہ کے لوگوں کی مدد کرنے میں عالمی برادری کو دشواری ہوگی اور ساتھ ہی قیام امن کا عمل بھی بے معنی ہو جائے گا۔ اسرائیل نے 2005 میں غزہ سے اپنے آباد کاروں اور فوجی دستوں کو واپس بلا لیا تھا لیکن اس کی سرحدوں اور فضائی حدود پر ابھی بھی اسرائیل کا کنٹرول ہے۔ | اسی بارے میں حماس اور الفتح میں لڑائی پھر شروع 11 March, 2007 | آس پاس غزہ: حماس کے تین ارکان ہلاک28 April, 2007 | آس پاس استعفے کے بعد غزہ بحران شدید14 May, 2007 | آس پاس معاہدہ، پھر جھڑپیں اور پھر معاہدہ15 May, 2007 | آس پاس فتح اور حماس میں معاہدہ طے14 May, 2007 | آس پاس برطانوی سفیر کا حماس سے رابطہ06 April, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||