کابینہ کے بائیکاٹ کی دھمکی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
غزہ میں فلسطینیوں کے دھڑوں حماس اور فتح کے درمیان منگل کو دن بھرگھمسان کی جنگ جاری رہی، قومی سکیورٹی فوج کے صدر دفتر پر حملہ ہوا، صدر محمود عباس کے احاطے پر ایک راکٹ پھینکا گیا اور وزیر اعظم اسمٰیل ہنیہ کے مکان پر راکٹ والا گرینیڈ چلایا گیا۔ الفتح نے یہ دھمکی بھی دی ہے کہ اگر مستقل فائر بندی نہ ہوئی تو حماس سے مل کر بننے والی قومی اتحاد کی حکومت کو چھوڑ دیا جائے گا۔ اس نے دھمکی دی ہے کہ کابینہ کے اجلاسوں کا بھی بائیکاٹ کیا جائے گا۔ دو دن سے جاری اس شدی لڑائی میں اب تک چونتیس افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ عینی شاہدوں نے بتایا کہ گزشتہ اٹھارہ ماہ کے دوران میں دونوں فلسطینی دھڑوں کے بیچ یہ بدترین لڑائی ہے۔ منگل کی صبح ہی سے دھماکے اور گولیاں چلنی شروع ہوگئیں اور عام لوگوں کا شہر میں نکلنا محال ہوگیا۔ حماس نے الفتح کو پوزیشنیں چھوڑنے کے لیے دو گھنٹے دیئے تھے اور گرینچ کے معیاری وقت کے مطابق صبح گیارہ بجے جب یہ مہلت ختم ہوئی تو حماس نے حملے شروع کر دیئے۔ حماس کے کارکن رملہ میں فتح کے آدمی ایک نائب وزیر کو پکڑ کے لے گۓ۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ دونوں فریق ہسپتال کی چھت پر مورچہ بند ہیں اور گولیاں چلارہے ہیں۔رات کو فائرنگ اور دھماکوں کے درمیان اذان بھی سنائی دے رہی تھی۔
ادھر وزیر اطلاعات مصطفیٰ بارغوتی نے جن کا دونوں میں سے کسی دھڑے سے تعلق نہیں ہے کہا ہے کہ لوگوں کو یہ سمجھنا چاہیئے کہ نہ صرف حکومت خطرے میں ہے بلکہ پوری فلسطینی انتظامیہ کے ٹوٹ جانے کا اندیشہ ہے۔ اس سے قبل غزہ میں مسلح افراد نے ایک مرتبہ پھر فلسطینی وزیراعظم اسماعیل ہنیہ کے گھر کو نشانہ بنایا۔ حماس کے ترجمان کے مطابق حملہ آوروں نے وزیرِاعظم کے شہر کے نواح میں شتی پناہ گزین کیمپ میں واقع گھر پر راکٹ سے پھینکے جانے والےگرینیڈ سے حملہ کیا گیا ہے۔ فوارزی براہوم کا کہنا تھا کہ اس حملے میں عمارت کو نقصان پہنچا تاہم اسماعیل ہنیہ اور ان کے اہلِ خانہ محفوظ رہے۔ دو دن میں یہ تیسرا موقع ہے کہ فلسطینی وزیراعظم کو مبینہ طور پر نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی۔ اس سے قبل پیر کو وزیراعظم کےگھر اور ایک ایسی عمارت پر فائرنگ کی گئی تھی جہاں وہ کابینہ کے اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔ حماس کے ترجمان نے الفتح کے کارکنوں پر ان حملوں کا الزام لگایا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ الفتح کے حمایتی فلسطینی وزیراعظم کو قتل کرنا چاہتے ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ’ حملہ آور تمام حدیں عبور کر چکے ہیں اور حماس نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ ان قاتلوں اور حملہ آوروں کو سزا دے گی اور اس حوالے سے کسی رحم کا مظاہرہ نہیں کیا جائے گا‘۔ | اسی بارے میں غزہ تشدد :مزید 14ہلاک16 May, 2007 | آس پاس استعفے کے بعد غزہ بحران شدید14 May, 2007 | آس پاس غزہ تشدد :مزید 13 ہلاک15 May, 2007 | آس پاس روس کا حماس کی قیادت سے وعدہ28 February, 2007 | آس پاس کہانیوں کا مجموعہ، حماس کی پابندی10 March, 2007 | آس پاس حماس اور الفتح میں لڑائی پھر شروع 11 March, 2007 | آس پاس برطانوی سفیر کا حماس سے رابطہ06 April, 2007 | آس پاس غزہ: حماس کے تین ارکان ہلاک28 April, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||