کہانیوں کا مجموعہ، حماس کی پابندی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حماس کی قیادت والی فلسطینی انتظامیہ نے حکم دیا ہے کہ سرکاری اسکولوں کے نصاب سے لوک کہانیوں کے ایک مجموعے کو خارج کردیا جائے۔ بعض فلسطینیوں کو تشویش ہے کہ گزشتہ سال مارچ میں اقتدار میں آنے والی حکومت ایسے فیصلوں کے ذریعے اپنے اسلامی ایجنڈے کو فروغ دینے کی کوشش کررہی ہے۔ چار سو صفحات پر مبنی لوک کہانیوں کے مجموعہ ’بول، پرندے، دوبارہ بول” کو شریف کنانا اور ابراہیم مہاوی نے ترتیب دیا ہے۔ شریف کنانا غرب اردن کی بِرزیت یونیورسٹی میں بشریات کے پروفیسر اور ابراہیم مہاوی عربی زبان اور ترجمہ کے استاد ہیں۔ ڈاکٹر کنانا نے بی بی سی کو بتایا کہ کتاب پر پابندی لگانا ایک مہم کا آغاز ہوسکتا ہے۔ ’میرے خیال میں سب لوگوں کو تشویش ہے کہ ایسا دوبارہ ہوسکتا ہے۔” پابندی عائد کیے جانے کے بعد گزشتہ چند دنوں کے دوران کتاب کی پندرہ ہزار کاپیاں غزہ اور غرب اردان کی لائبریریوں سے ہٹادی گئی ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ دو سال قبل اس وقت کی الفتح حکومت کی وزارت تعلیم نے بھی ایک کتاب کو نصاب سے اس لیے خارج کردیا تھا کہ اس میں بوائے فرینڈز اور گرل فرینڈز کا ذکر تھا۔ لیکن ڈاکٹر کنانا کا کہنا ہے کہ ان کی کتاب میں پینتالیس فلسطینی لوک کہانیاں ہیں جو کہ فلسطینی معاشرے کا حصہ ہیں۔ ’میں خود یہ کہانیاں سنتا آیا ہوں۔ اور اگرچہ کہیں کہیں زبان کا استعمال عامیانہ ہوسکتا ہے تاہم یہ کتاب ایک اہم ریکارڈ ہے۔” جب سے حماس اقتدار میں آئی ہے بعض فلسطینیوں کو تشویش ہے کہ یہ تنظیم معاشرے کے بارے میں اپنے اسلامی نظریے پر عمل کرے گی۔ تاہم بیشتر لوگوں کا کہنا ہے کہ اب تک اس طرح کی کوئی خاص تبدیلی نہیں دیکھی گئی ہے۔ مبصرین کہتے ہیں کہ حماس فلسطینی انتظامیہ پر عائد کی جانے والی بین الاقوامی پابندیوں سے نمٹنے میں مصروف رہی ہے جس کی وجہ سے اسے اپنے اسلامی ایجنڈے کو فروغ دینے کا موقع نہیں ملا ہے۔ لیکن اب اس طرح کے خدشات کا اظہار کیا جارہا ہے کہ کتاب پر یہ پابندی حماس کے ایک ریڈیکل پروگرام کی ابتدا ہے۔ غرب اردن کے شہر رملہ میں فلسطینی میڈیا کے ماہر ہنی مصری کہتے ہیں: ’مجھے لگتا ہے کہ یہ ایک خطرناک فیصلہ ہے جس سے حماس کے چھپے ہوئے چہرے کی جھلک ملتی ہے۔” مصری کا مزید کہنا ہے کہ ’حماس ہمیشہ سے ہی فلسطینی معاشرے کو اسلامی طرز پر ڈھالنا چاہتی تھی اور اس پابندی سے یہ واضح ہوگیا ہے۔” لیکن ڈاکٹر کنانا کہتے ہیں کہ انہیں سیاست اور مذہب میں دلچسپی نہیں، بلکہ ان کا مقصد صرف اس کتاب کو واپس لائبریریوں میں لانا ہے۔ ’میں سمجھتا ہوں کہ اس کتاب پر پابندی عائد کرنا ایک غلطی ہے کیوں کہ اس میں کوئی بھی بات عامیانہ یا نقصاندہ نہیں ہے۔” |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||