روس کا حماس کی قیادت سے وعدہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
روس نے کہا ہے کہ وہ گزشتہ سال کےانتخابات میں حماس کی کامیابی کے بعد مغربی ممالک کی جانب سے فلسطینی انتظامیہ پر عائد کی گئی پابندیوں کو ختم کرانےکے لیے کوششیں کرے گا۔ روس نے یہ اعلان ایک ایسےموقع پر کیا ہے جب حماس کے رہنما خالد مشعل روس کا دورہ کر رہے ہیں۔ روس نے امریکہ اور اسرائیل کی مخالفت کا خطرہ اس وقت مول لیا جب اس نے حماس کے ساتھ بات چیت کافیصلہ کیا۔ یہ گزشتہ ایک سال سے کم عرصے میں دوسرا موقع ہے کہ حماس کے رہنماؤں کو ماسکو مدعو کیا گیا ہے۔ تاہم روس کو اپنے اس عمل پر کوئی پچھتاوا نہیں ہے۔ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے فلسطین میں قومی حکومت کی تشکیل سے متعلق حالیہ تجاویز کا خیر مقدم کیا ہے۔ خالد مشعل نے روس کی حمایت اور مشورے کا شکریہ ادا کیا ہے۔ تاہم انہوں نے اور نہ ہی روسی وزیرخارجہ نے یہ تفصیل دی ہے کہ روس پابندیاں ہٹانے کے لیے کونسے ٹھوس اقدامات اٹھا سکتا ہے۔ روس، امریکہ، اقوام متحدہ اور یورپی یونین نے حماس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ تشدد ترک کرکے اسرائیل کو تسلیم کر لے۔ روس کا خیال ہے کہ بات چیت سے ہی ان مقاصد کو بہتر طور پر حاصل کیا جاسکتا ہے۔ دوسری جانب حماس نے اس سلسلے میں دو ٹوک موقف اختیار کیا ہواہے۔ خالد مشعل نے کہا ہے کہ اسرائیل کوغرب اردن اور غزہ پر اپنا قبضہ ختم کرنا ہوگا اور اس کے بعد ہی فلسطینی اپنا لائحہ عمل واضح کریں گے۔ | اسی بارے میں مکہ: حماس،الفتح میں مذاکرات جاری08 February, 2007 | آس پاس مکہ میں مذاکرات کی تیاری07 February, 2007 | آس پاس قومی حکومت بنانے کی دعوت16 February, 2007 | آس پاس مذاکرات جاری رہیں گے: رائس19 February, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||