BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 15 June, 2007, 10:58 GMT 15:58 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فلسطینی معاشرہ انتشار کے قریب؟

غزہ میں حماس کے جنگجوؤں کی کامیابی
فلسطینیوں کے لیے یہ اہم دن تھا۔ جمعرات کی شام تک، فلسطینی انتظامیہ کے صدر محمود عباس نے حماس کے منتخب کردہ وزیراعظم کو برطرف کرنے اور ایمرجنسی نافذ کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

یہ سخت قدم تھا، لیکن اس سے غزہ میں حماس کی فوجی شاخ پر کچھ زیادہ اثر نہیں پڑے گا۔ یہ بھی واضح نہیں ہے کہ حماس سے تعلق رکھنے والے منتخب سیاست دانوں کا حالات پر کتنا اثر ہے۔

موجودہ لڑائی کی وجہ سے غزہ میں طاقت کے مراکز اب حماس کے نقاب پوش جنگجوؤں کے ہاتھ میں ہیں۔ جبکہ الفتح کی سکیورٹی فورس کی شکست ہوگئی ہے اور اس کے ہیڈکوارٹر پر حماس نے قبضہ کرلیا ہے۔ غزہ میں حماس کے جنگجوؤں کو کامیابی اس لیے ملی کہ انہیں اچھی تربیت حاصل ہے اور الفتح کے مقابلے میں ان کی قیادت کافی مؤثر ہے۔

دوسری جانب کئی فورسز جن سے الفتح کو کچھ امید تھی لڑائی میں شریک نہیں ہوئیں اور انہوں نے کنارہ کشی اختیار کرلی۔ جبکہ الفتح کے بعض رہنماؤں نے حماس کے ساتھ نہ لڑائی نہ کرنے کے لیے سمجھوتے کرلیے۔

الفتح کی جانب سے لڑنے والے جنگجو
 الفتح کی جانب سے لڑنے والے جنگجو وہ تھے جو محمد دہلان کے وفادار ہیں۔ امریکہ بھی امید کرتا رہا ہے کہ محمد دہلان حماس کو کچلنے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ لیکن لڑائی کے وقت محمد دہلان الفتح کے جنگجوؤں کی قیادت کے لیے موجود نہیں تھے، بلکہ الفتح کے دیگر رہنما بھی غائب تھے۔
الفتح کی جانب سے لڑنے والے جنگجو وہ تھے جو محمد دہلان کے وفادار ہیں۔ امریکہ بھی امید کرتا رہا ہے کہ محمد دہلان حماس کو کچلنے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ لیکن لڑائی کے وقت محمد دہلان الفتح کے جنگجوؤں کی قیادت کے لیے موجود نہیں تھے، بلکہ الفتح کے دیگر رہنما بھی غائب تھے۔

محمد دہلان حماس کے اہم دشمن ہیں۔ وہ امریکہ کے حمایتی ہیں اور انہیں اسرائیل کی ضرورتیں پورا کرنے کے لیے بھی اہم سمجھا جاتا ہے۔ امریکہ دہلان کی فورسز کو مضبوط کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔ لیکن جب حماس کے جنگجوؤں نے ان کے دروازے پر دستک دی اور ان کی میز اڑا دی، وہ غیرحاضر تھے۔ وہ علاج کے لیے مصر گئے ہوئے ہیں۔

جس شخص نے محمد دہلان کے دفتر کو اڑایا، ٹیلی ویژن کیمروں نے اس کی زبان سے یہ الفاظ سنے: ’محمد دہلان جیسے قابل نفرت غداروں کا یہی مستقبل ہے۔‘

الفتح سے تعلق رکھنے والے فلسطینی صدر محمود عباس نے تشدد پر قابو پانے کے لیے ایمرجنسی نافذ کردی ہے۔ خدشہ یہ ہے کہ اس سے حالات خراب تر ہی ہونگے۔

بعض فلسطینی فکرمند ہیں کہ مخلوط حکومت کے خاتمے سے فلسطینی انتظامیہ اور دیگر ادارے بکھر جائیں گے جن کے بارے میں وہ امید کررہے تھے کہ وہ ایک آزاد فلسطینی ریاست کا ستون بنیں گے۔

گزشتہ سات برسوں کے دوران اسرائیل کے حملوں کی وجہ سے ان فلسطینی اداروں کو پہلے ہی کافی نقصان پہنچا ہے۔ حالیہ برسوں میں حماس کے اقتدار میں آنے کے بعد اسرائیل اور دیگر ممالک کی جانب سے عائد کردہ پابندیوں سے بھی فلسطینی ادارے کافی کمزور ہوگئے ہیں۔

غزہ میں اس ہفتے کے حالات سے ایسا لگتا ہے کہ فلسطینی معاشرہ بکھر جائے گا۔

غیرملکی پابندیوں کا اثر
 بڑی طاقتوں نے جو پابندیاں عائد کیں ان سے فلسطینیوں کی مشکلات میں اضافہ ہوا اور غزہ میں میں تشدد کو ہوا ملی۔ عام آدمی کے لیے کوئی راستہ نہ بچا۔ ان پابندیوں کا مقصد حماس کو اقتدار سے باہر کرنا یا اسے اسرائیل کو تسلیم کرنے لیے مجبور کرنا تھا جو کہ نہ ہوسکا۔ پابندیاں لگانے کی پالیسی اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہی۔
ایک فلسطینی تجزیہ نگار نے بی بی سی کے ساتھ گفتگو میں اس خدشے کا اظہار کیا کہ تازہ تشدد اور برسوں کے دباؤ نے جو حالات پیدا کیے ہیں، ان سے فلسطینی معاشرے کو پہنچنے والے نقصانات، سن 1948 میں اسرائیل کے قیام کے وقت فلسطینی معاشرے کی ہونے والی تباہی سے مماثلت رکھتے ہیں۔

عرب عوام سن 1948 میں ہونے والی فلسطینی تباہی کو آج بھی ایک ’المیے‘ کی حیثیت سے یاد کرتے ہیں۔ آج غزہ میں جو کچھ ہوا ہے اس سے حماس کو تنہا کرنے کی دنیا کی بڑی طاقتوں کی کوششوں کی ناکامی بھی واضح ہوئی ہے۔

بڑی طاقتوں نے جو پابندیاں عائد کیں ان سے فلسطینیوں کی مشکلات میں اضافہ ہوا اور غزہ میں میں تشدد کو ہوا ملی۔ عام آدمی کے لیے کوئی راستہ نہ بچا۔ ان پابندیوں کا مقصد حماس کو اقتدار سے باہر کرنا یا اسے اسرائیل کو تسلیم کرنے لیے مجبور کرنا تھا جو کہ نہ ہوسکا۔ پابندیاں لگانے کی پالیسی اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہی۔

سعودی عرب جس نے محمود عباس کی حمایت کی تھی، نہیں چاہے گا کہ الفتح اور حماس کی متحدہ حکومت کا خاتمہ ہو کیونکہ سعودی رہنماؤں نے ہی یہ مشترکہ حکومت بنوائی تھی۔ اسے سعودی خارجہ پالیسی کی نمایاں کامیابی سمجھا جارہا تھا۔

حماس کے وزیر اعظم اسماعیل ہنیہ صدر محمود عباس سے ایک مؤثر تعلق بنائے رکھنا چاہیں گے۔ اس کے بغیر حماس مزید تنہا ہوجائے گی۔ لہذا اب سعودی عرب اور مصر الفتح اور حماس کے درمیان مذاکرات کرانے کی کوشش کرینگے۔

اگر وہ ایسا نہیں کراسکتے تو وسیع تر مشرق وسطیٰ میں امن سمجھوتے کا امکان نہیں ہوگا۔ حماس اور الفتح کا مستقبل یہ رہ جائےگا کہ وہ قابض طاقت اسرائیل کی آنکھوں کے سامنے غزہ اور غرب اردن میں ایک دوسرے کا خون بہاتے رہیں۔

ویسے بھی حماس کے فوجی رہنما اس بات پر یقین نہیں رکھتے کہ ایک سمجھوتہ ممکن ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ایک آزاد فلسطینی ریاست کا خواب مزید ایک نسل کے لیے چکنا چور ہوجائے گا۔

حماس اور فتح کے درمیان جنگ جاریآپ کیا کہتے ہیں؟
حماس اور فتح کے درمیان لڑائی، آگے کیا ہوگا؟
محمود عباسامریکہ کا نیا منصوبہ
محمود عباس کو منظور، اسماعیل ہنیہ کو نامنظور
غزہغزہ میں ہلاکتیں
غزہ پر اسرائیل کی فوج کے فضائی حملے
یروشلم (فائل فوٹو)اسرائیلی تعمیرات
یروشلم کا جغرافیہ بدلنے کی کوشش، ریڈ کراس
یولی تمیر’اسرائیلی نصاب‘
سابقہ سرحدیں دکھائے جانے کے امکان پر تنازعہ
غزہ کی پٹیغزہ کی پٹی
مصرنےتین ہزار فوجی غزہ سرحد پرتعینات کر دیے
اسرائیلی دراندازی
اسرائیلی فائرنگ سے تین فلسطینی ہلاک
اسی بارے میں
حماس حکومت برطرف
15 June, 2007 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد