BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 11 June, 2007, 02:54 GMT 07:54 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
غزہ:فائر بندی کا معاہدہ ’ٹوٹ گیا‘
الفتح تنظیم کے کارکن
گزشتہ ہفتے الفتح تنظیم اور حماس کے کارکنوں کے درمیان جھڑپیں جاری رہیں
غزہ میں متحارب فلسطینی گروہوں کے درمیان ایک ہفتے تک جاری رہنے والی شدید جھڑپوں کے بعد ہونے والی فائر بندی اس وقت ختم ہو گئی جب مسلح افراد نے ایک ایسی عمارت پر فائرنگ کی جس میں فلسطینی کابینہ کا اجلاس ہو رہا تھا۔

حکام کے مطابق اس واقعے میں کوئی زخمی نہیں ہوا۔

اس سے قبل پیر کو حماس اور الفتح تنظیم کے درمیان قریباً ایک ماہ کے عرصے میں ساتویں مرتبہ فائر بندی کا معاہدہ ہوا تھا۔ مئی کے وسط سے ان دونوں فلسطینی دھڑوں کے درمیان جاری تصادم میں پچاس کے قریب افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

گزشتہ ہفتے ہونے والی جھڑپوں کے دوران نہ صرف فلسطینی وزیراعظم اسماعیل ہنیہ کےگھر پر فائرنگ ہوئی بلکہ مخالف گروہ کے کارکنوں کو بلند عمارتوں سےگرا کر ہلاک بھی کیا گیا۔

فلسطینی وزیراعظم کی رہائش گاہ پر فائرنگ کا واقعہ پیر کی صبح پیش آیا۔تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ اسماعیل ہنیہ اس وقت گھر میں موجود تھے یا نہیں۔ تاہم ان کے رشتہ داروں کا کہنا ہے کہ اس واقعے کے وقت ان کی اہلیہ، بچے اور پوتے، پوتیاں گھر میں تھے۔ یہ بھی واضح نہیں کہ مسلح افراد کا ہدف خود فلسطینی وزیرِاعظم تھے یا انہوں نے شاید فلسطینی وزیرِ اعظم کے محافظوں کو نشانہ بنانا چاہا تھا۔

اس سے قبل جھڑپوں میں جن میں صدر محمود عباس کی الفتح تنظیم اور اسماعیل ہنیہ کی طرف دار حماس کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوتا رہا جس میں تین افراد مارے گئے۔

اتوار کو ایک واقعہ میں حماس کے شدت پسندوں نے فتح تنظیم سے تعلق رکھنے والی سکیورٹی فورس کے ایک افسر کو اغواء کر لیا اور بعد میں اسے ایک پندرہ منزلہ عمارت سے نیچے پھینک کر ہلاک کر دیا تھا۔ اس ہلاکت کے بعد غزہ شہر میں جھڑپوں میں یکدم تیزی آ گئی۔

ادھر حماس کے ایک مبلغ کو مسلح افراد نے ہلاک کر دیا جبکہ حماس کے ایک کارکن کو ایک عمارت سے نیچے پھینک دیا گیا۔حماس اور الفتح کے درمیان جنوبی شہر رفاہ میں بھی تشدد ہوا جہاں الفتح کے ایک رکن گزشتہ جمعرات کو مارے گئے تھے۔

رفاہ کے باشندوں نے خبررساں ادارے رائٹرز کو بتایا ہے کہ الفتح اور حماس نے سنیچر کو تشدد کے دوران گلیوں اور عمارتوں کے چھتوں سے مشین گنوں اور راکٹ سے داغےجانے والے گرینیڈ کا استعمال کیا۔طبی اہلکاروں کے مطابق مقامی ہسپتال زخمیوں سے کھچاکھچ بھر گیا تھا جس کے بعد متعدد زخمیوں کو علاج کے لیے قریبی شہروں میں بھیجاگیا۔

اسی بارے میں
غزہ تشدد :مزید 14ہلاک
16 May, 2007 | آس پاس
غزہ تشدد :مزید 13 ہلاک
15 May, 2007 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد