غزہ میں ایمرجنسی کی تجویز | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فلسطینی دھڑوں الفتح اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے اعلان کے باوجود غزہ میں گھمسان کی لڑائی جاری ہے اور اطلاعات کے مطابق حماس نے فتح کے سیکورٹی ہیڈکوارٹر پر قبضہ کر لیا ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق الفتح نے صدر محمود عباس سے درخواست کی ہے وہ حکومت تحلیل کر کے ایمرجنسی نافذ کرنے کا اعلان کریں۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ حماس نے غزہ شہر میں واقع سکیورٹی ہیڈکوارٹر کی عمارت پر اپنا پرچم لہرا دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق الفتح کے چودہ افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں سے زیادہ تر سکیورٹی اہلکار تھے۔ جمعرات کو فلسطینی صدر محمود عباس نے تنازعہ کے حل کے لیے اپنے مشیروں سے بات چیت جاری رکھی ہوئی ہے اور توقع ہے کہ وہ شام کو بیان جاری کریں گے۔ صدر محمود عباس کے قریبی ذرائع نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ صدر تین ماہ قبل قائم ہونے والی فلسطینی کابینہ کو تحلیل کرنے کے فیصلے پر غور کر رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق حماس نے اب غزہ کی پوری پٹی پر تقریباً مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ جنوبی غزہ میں حماس کی فورسز نے فتح کے زیر اثر سکیورٹی سروس کی ایک عمارت کو بم کے دھماکے سے اڑا دیا ہے، جس سے پانچ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ گزشتہ شب دیر گئے دونوں دھڑوں نے اعلان کیا تھا کہ کئی دن سے جاری خونریز لڑائی کو بند کرنے کے لیے شرائط طے ہوگئی ہیں۔ غزہ میں ٹیلیوژن پر صدر محمود عباس اور وزیر اعظم اسمٰعیل ہنیہ دونوں کا مشترکہ بیان سنایا گیا کہ لڑائی بند کردی جائے اور گفت و شنید سے کام لیا جائے۔
لیکن اطلاعات کے مطابق لڑائی کی شدت میں کوئی کمی نہیں آئی ہے اور غرب اردن کے شہر نبلوس سے بھی جھڑپوں کی خبریں ملی ہیں۔ مبصرین کے مطابق فتح کا اب مخلوط حکومت میں رہنا مشکل نظر آتا ہے اور امکان ہے کہ فلسطینی صدر محمود عباس جمعرات کو اس بارے میں کوئی اعلان کریں گے۔ ادھر غزہ میں عدم استحکام کی وجہ سے اقوام متحدہ میں اس بات پر غیر رسمی تبادلۂ خیال ہو رہا ہے کہ وہاں امن فوج تعینات کی جائے۔ تازہ جنگ بندی کی تفصیلات بتاتے ہوئے الفتح کے ایک سینئر عہدے دار اعظم الاحمد نے کہا ہے کہ فتح نے نو شرائط مان لی ہیں، جن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ فلسطینی وزیر داخلہ کا تقرر حماس کرے گی جو پورے فلسطینی علاقے میں سکیورٹی کا ذمہ دار ہوگا۔ یہ اعلان اس وقت ہوا جب غزہ شہر پر قبضے کی جنگ زور و شور سے جاری تھی۔ حماس کے فوجی بازو نے کہا کہ ہمیں فائر بندی کی کوئی ہدایت نہیں ملی ہے۔ حماس نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ پورے شمالی غزہ اور جنوبی غزہ کے بڑے علاقے پر اس کا قبضہ ہو چکا ہے۔ اس شدید تصادم میں پھنسے ہوۓ ایک عام فلسطینی نے کہا: ’انسانوں پر ہمارا اعتقاد اٹھ چکا ہے۔ صدارت سے، وزارت عظمیٰ سے ہمارا اعتقاد اٹھ گیا ہے۔ ان فلسطینیوں سے اٹھ چکا ہے جو اسرائیلی قبضے کی مزاحمت کر رہے تھے۔ فلسطینیوں کا آدرش تباہ ہوچکا ہے۔ ہم اب ایک دوسرے کو مار رہے ہیں۔ وہ کام کر رہے ہیں جو اسرائیل ہم سے کرانا چاہتا تھا۔‘ دریں اثناء اقوام متحدہ کےسیکرٹری جنرل بان کی مون نے کہا ہے کہ مقبوضہ فلسطینی علاقے غزہ میں عالمی امن فوج کی تعیناتی کا جائزہ لیا جانا چاہیے۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کیمون نے صحافیوں کو بتایا کہ ان کے سامنے یہ معاملہ اسرائیلی اور فلسطینی قیادت نے اٹھایا ہے۔
بان کی مون کے مطابق گو ابھی صرف اس بات کی حیثیت ایک خیال کی سی ہے لیکن پھر بھی یہ معاملہ کوئی سیدھا سادا نہیں ہے۔ ان کے مطابق اگر عالمی برادری غزہ میں عالمی امن فوج کی موجودگی پر متفق ہوتی ہے تو اس فوج کو کہاں تعینات کیا جائے، اس کا دائرۂ کار کیا ہو اور اس کے ذمے کام کیا ہوں، یہ ساری باتیں ابھی واضح نہیں ہیں۔ ادارے کی امن فوج کے شعبہ کے سربراہ ژاں میری گانو سے بھی غزہ میں امن فوج کی تعیناتی کی بات کی گئی تو انہوں نے اس جانب خاص طور سے توجہ دلائی کہ کہیں بھی امن فوج کی تعیناتی تمام فریقوں کے اتفاق رائے کی بنیاد پر ہی ہوتی ہے۔ |
اسی بارے میں کابینہ کے بائیکاٹ کی دھمکی13 June, 2007 | آس پاس غزہ تشدد :مزید 14ہلاک16 May, 2007 | آس پاس استعفے کے بعد غزہ بحران شدید14 May, 2007 | آس پاس غزہ تشدد :مزید 13 ہلاک15 May, 2007 | آس پاس روس کا حماس کی قیادت سے وعدہ28 February, 2007 | آس پاس کہانیوں کا مجموعہ، حماس کی پابندی10 March, 2007 | آس پاس حماس اور الفتح میں لڑائی پھر شروع 11 March, 2007 | آس پاس برطانوی سفیر کا حماس سے رابطہ06 April, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||