امریکی منصوبہ پر اختلاف | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فلسطینی صدر محمود عباس نے کہا ہے کہ فلسطین سے متعلق امریکہ کا نیا سیکورٹی منصوبہ بہت اچھی تجاویز پر مشتمل ہے اور اسرائیل کوبھی اس منصوبے کا خیر مقدم کرنا چاہئیے ۔ فلسطینی رہنمااس منصوبے پر بحث کر رہے ہیں جو غرب اردن میں زیادہ آسانی سےنقل و حرکت کی اجازت دیتا ہے۔صدر محمود عباس کے برعکس وزیراعظم اسماعیل ہنیہ اس منصوبے کو یہ کہتے ہوئے مسترد کر چکے ہیں کہ یہ فلسطینی علاقے پر اسرائیلی قبضے کو جائز قرار دینے کے مترادف ہے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ منصوبے میں کچھ مثبت نکات ہیں لیکن کچھ نکات ایسے بھی ہیں جو قابل قبول نہیں۔ ’بنچ مارک ڈاکومنٹ‘ یا نئے امریکی سیکورٹی پلان میں اسرائیل پر راکٹ حملوں کو ختم کرنے کے تبادلے میں غرب اردن میں کچھ فوجی چیک پوسٹوں کو منہدم کرنے کی پیشکش کی گئی ہے۔ صدر محمود عباس نے کہا ہے کہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اس پلان میں کچھ اہم اقدامات ہیں جو کہ سیکورٹی کو مستحکم کرنے اور ہمارے لوگوں کے مصائب کم کرنے کے حوالے سے کافی اہم ہیں۔ رملہ سے بی بی سی کے نمائندے علیم مقبول کا کہنا ہے کہ محمود عباس کواپنے تمام وزراء کی حمایت حاصل نہیں ہے اور کئی وزراء کھلم کھلا ان پر تنقید کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس منصوبے میں غرب اردن میں اسرائیلی آبادیوں اوران کو الگ کرنے والی فصیل جیسے اہم معاملے کے بارے میں کچھ نہیں کہا گیا۔ فلسطینی وزیر اعظم کی جماعت کا کہنا ہے کہ وہ اس منصوبے کو ناکام بنانے کے لیے ہر حربہ استعمال کری گی۔ پارٹی کے ترجمان فوزی برہم نے کہا ہے کہ صدر کو تمام فلسطینی طبقات کو اکھٹا کرنا چاہئے اور کسی چیز کا بھی فیصلہ بغیر اتفاقِ رائے کے نہیں کرنا چاہئے۔ امریکہ وزیرِ خارجہ کونڈولیزا رائس اس منصوبے کے سلسلے میں پندرہ مئی کو دوبارہ اس خطے کا دورہ کریں گی۔ فریقین کی رضامندی کے بعد منصوبے کی شقوں کومرحلہ وار نافذ کیا جائے گا۔ |
اسی بارے میں معاشی بائیکاٹ ختم کیا جائے: ہنیہ13 February, 2007 | آس پاس رائس، عباس اوراولمرت ملاقاتیں18 February, 2007 | آس پاس مذاکرات جاری رہیں گے: رائس19 February, 2007 | آس پاس ہنیہ کی تقریر مایوس کن: امریکہ18 March, 2007 | آس پاس ہانیہ دہشت گرد ہیں: اولمرت31 March, 2007 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||