BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 18 March, 2007, 02:06 GMT 07:06 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ہنیہ کی تقریر مایوس کن: امریکہ
’امریکہ فلسطینی صدر محمود عباس کے ساتھ مل کر کام کرے گا‘
امریکہ کا کہنا ہے کہ فلسطین میں نئی قومی حکومت کی تشکیل کے حوالے سے فلسطینی وزیراعظم کی پالیسی تقریر مایوس کن تھی۔

امریکی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اسماعیل ہنیہ کی اس تقریر کے نتیجے میں قیامِ امن کا ایک موقع ضائع ہوا ہے۔

شان میکارمک نے کہا کہ فلسطینی وزیراعظم کی جانب سے’مزاحمت کا حق‘ رکھنے کی بات نہ صرف پریشان کن ہے بلکہ تشدد کے خاتمے کے اصول کے خلاف بھی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ فلسطینی صدر محمود عباس کے ساتھ مل کر کام کرے گا لیکن بقیہ روابط حالات پر منحصر ہوں گے۔

قومی حکومت کے حوالے یورپی یونین کا کہنا ہے کہ وہ اس حکومت کے ساتھ اسی صورت میں کام کرے گی اگر وہ اسرائیل کو تسلیم کرے اور تشدد ترک رک دے جبکہ اسرائیل نے ایک مرتبہ پھر یہ باور کرایا ہے کہ وہ فلسطین میں زیر تشکیل قومی یکجہتی کی حکومت کو تسلیم نہیں کرے گا۔

اسرائیلی وزیر اعظم ایہود اولمرت کے ترجمان نے فتح اور حماس کے نمائندوں پر تشکیل دی جانے والی حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ اسرائیل کے خلاف تشدد کے استعمال کی توثیق کرتی ہے۔

فلسطینی حکومت کے نامزد اسماعیل ہنیہ نے کہا فلسطینی مملکت کا قیام ان کی اولین ترجیح ہو گی۔ فلسطینیوں کو امید ہے کہ قومی یکجہتی کی حکومت کی تشکیل کے بعد فلسطین کو ملنے والی مغربی امداد بحال کر دی جائے گی۔

اسرائیلی ترجمان مری ایسن کا کہنا تھا کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے اور تشدد ترک کرنے کے مطالبوں پر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم کے ترجمان کا بیان غزہ میں فلسطینی پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس میں اسمٰعیل ہنیہ کے نئی حکومت کے پروگرام کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں
انہوں نے فلسطینی ارکان پارلیمنٹ کو بتایا کہ فلسطین پر قبضے کے خلاف ہر قسم کی مزاحمت فلسطینی عوام کا حق ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ان کی کابینہ اسرائیل کے ساتھ سمجھوتہ قائم کرنے کے لیے اس شرط پر کام کرے گی اسرائیل ’قابض جارحیت‘ ختم کرے۔

بی بی سی کے نامہ نگار میتھیو پرائس نے کہا کہ اسماعیل ہنیہ کے بیان میں اسرائیلیوں کے لیے کوئی نئی بات نہیں ہے لیکن یہ بات اہم ہے کہ حماس کے ایک اہم رہنما نے انیس سو انسٹھ سے اسرائیل کے قبضے میں علاقوں پر فسلطینی ریاست کے قیام کی بات کی ہے۔نامہ نگار کے مطابق یہ بات بالواسط طور پر اسرائیل کو تسلیم کرنے کے مترادف ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد