لبنان پرحملے کا منصوبہ تھا: اولمرت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیل کے وزیر اعظم ایہود اولمرت نے کہا ہے کہ گزشتہ سال لبنان پر کیئے جانے والے حملے کی منصوبہ بندی کئی ماہ پہلے کر لی گئی تھی۔ اسرائیل کے ایک مقتدر جریدے میں شائع ہونے والی ایک خبر میں دعویٰ کیا گیا ہےکہ ایہود اولمرت نے ایک بیان میں کہا ہے کہ لبنان پر اسرائیلی حملے کی منصوبہ بندی اسرائیل فوجیوں کے حزب اللہ کی طرف سے گرفتار کیئے جانے سے کم از کم چار ماہ پہلے کر لی گئی تھی۔ گزشتہ سال بارہ جولائی کو حزب اللہ کے جنگجوؤں نے دو اسرائیلی فوجیوں کو اغواء کر لیا تھا جس کے بعد اسرائیل نے لبنان پر حملہ کر دیا تھا۔ اسرائیلی حکومت کی طرف سے تشکیل کردہ ، ونوگراڈ کمیشن گزشتہ سال اسرائیل کے لبنان پر حملے کی تحقیقات کرنے کے علاوہ اس بات کا تعین کر رہا ہے کہ اس جنگ سے کیا سبق اخذ کیئے جا سکتے ہیں۔ توقع ہے کہ یہ کمیشن اس ماہ کے آخر تک اپنی عبوری رپورٹ پیش کر دے گا۔ وزیر اعظم ایہود اولمرت نے اس سال فروری کی یکم تاریخ کو اس کمیشن کے سامنے اپنا بیان قلمبند کرایا تھا۔ اخبار میں چھپنے والی اس خبر میں اس بات کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا کہ اخبار نے ایہود اولمرت کا یہ بیان کیسے حاصل کیا۔ حزب اللہ کے ساتھ اس لڑائی میں ایک ہزار کے قریب لبنانی جن میں زیادہ تر شہری شامل تھے ہلاک ہو گئے تھے۔ اس کے علاوہ اس لڑائی میں ترتالیس اسرائیلی شہری اور ایک سو چھ اسرائیلی فوجی بھی مارے گئے تھے۔ حزب اللہ کی طرف سے اسرائیل کے دو فوجیوں کو گرفتار کیئے جانے کے چند گھنٹوں بعد لبنان پر اسرائیلی حملہ کر دیا گیا تھا۔ تاہم یہ جنگ ان فوجیوں کی بازیابی کے بغیر ہی اختتام پذیر ہوگئی۔ اس جنگ میں ناکامی کی ذمہ داری ایہود اولمرت پر عائد کی جاتی ہے۔ ان کے ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ جنگ بغیر تیاری اور منصوبہ بندی کے شروع کر دی گئی تھی۔ اخباری خبر کے مطابق اولمرت نے کہا ہے کہ ان کے آٹھ جنوری کو اقتدار سنبھالنے کے فوری بعد لبنان کی صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے کئی اعلیٰ سطحی اجلاس ہوئے تھے۔ اسرائیل کے سابق وزیر اعظم ایریئل شیرون کے بیمار ہونے کے بعد ایہود اولمرت نے آٹھ جنوری کو وزیر اعظم کا عہدہ سنبھال لیا تھا۔ ایہود اولمرت نےکمیشن کے سامنے اپنے بیان میں مزید کہا تھا کہ مارچ میں ہونے والے ایک اعلی سطح اجلاس میں انہوں نے پوچھا تھا کہ شمالی سرحد پر کسی اسرائیلی فوجی کے پکڑے جانے کی صورت میں کیا کوئی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ اخبار کے مطابق ایہود اولمرت نے کہا کہ ان کے سامنے کئی متبادل منصوبے پیش کیئے گئے تھے جن میں سے انہوں نے محدود پیمانے پر فضائی اور زمینی کارروائی کو مناسب قرار دیا تھا۔ ایہود اولمرت نے کہا کہ انہوں نے اس صورت حال میں وہی کچھ کیا جو وسیع جنگی تجربہ رکھنے والے ایریئل شیرون نے کیا ہوتا۔ | اسی بارے میں لبنان جنگ: تحقیقات کی منظوری17 September, 2006 | آس پاس لبنان سے اسرائیلی انخلاء مکمل01 October, 2006 | آس پاس اسرائیلی فوجیوں کی رہائی کا مطالبہ13 January, 2007 | آس پاس اسرائیل، لبنان سرحدی جھڑپ08 February, 2007 | پاکستان رملہ میں چھاپہ، اٹھارہ گرفتار07 March, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||