نئی فلسطینی کابینہ،اسرائیلی ردعمل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیل نے ایک مرتبہ پھر یہ باور کرایا ہے کہ وہ فلسطین میں زیر تشکیل قومی یکجہتی کی حکومت کو تسلیم نہیں کرے گا۔ اسرائیلی وزیر اعظم ایہود اولمرت کے ترجمان نے فتح اور حماس کے نمائندوں پر تشکیل دی جانے والی حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ اسرائیل کے خلاف تشدد کے استعمال کی توثیق کرتی ہے۔ فلسطینی حکومت کے نامزد اسماعیل ہنیہ نے کہا فلسطینی مملکت کا قیام ان کی اولین ترجیح ہو گی۔ فلسطینیوں کو امید ہے کہ قومی یکجہتی کی حکومت کی تشکیل کے بعد فلسطین کو ملنے والی مغربی امداد بحال کر دی جائے گی۔ یورپی یونین اور اقوام متحدہ کی طرف سے ملنے والے اشاروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کے رویہ میں بھی نرمی آ رہی ہے۔ فلسطین میں تشکیل دی جانے والی قومی یکجہتی کی حکومت کے لیے فلسطینی پارلیمان سے اعتماد کو ووٹ لینا ایک رسمی کارروائی ہی بن جائے گی۔ اسرائیلی ترجمان مری ایسن کا کہنا تھا کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے اور تشدد ترک کرنے کے مطالبوں پر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔ غزہ میں فلسطینی پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس میں اسماعیل ہنیہ کے نئی حکومت کے پروگرام کے اعلان کے بعد اسرائیلی وزیر اعظم کے ترجمان کا بیان سامنے آیا ہے۔ انہوں نے فلسطینی ارکان پارلیمنٹ کو بتایا کہ فلسطین پر قبضے کے خلاف ہر قسم کی مزاحمت فلسطینی عوام کا حق ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ان کی کابینہ اسرائیل کے ساتھ سمجھوتہ قائم کرنے کے لیے اس شرط پر کام کرے گی اسرائیل ’قابض جارحیت‘ ختم کرے۔ بی بی سی کے نامہ نگار میتھیو پرائس نے کہا کہ اسماعیل ہنیہ کے بیان میں اسرائیلیوں کے لیے کوئی نئی بات نہیں ہے لیکن یہ بات اہم ہے کہ حماس کے ایک اہم رہنما نے انیس سو انسٹھ سے اسرائیل کے قبضے میں علاقوں پر فسلطینی ریاست کے قیام کی بات کی ہے۔ ہمارے نامہ نگار کے مطابق یہ بات بالواسط طور پر اسرائیل کو تسلیم کرنے کے مترادف ہے۔ اسماعیل ہنیہ سے پہلے فلسطینی پارلیمان سے صدر محمود عباس نے خطاب کیا۔ مغربی ممالک کی طرف سے فلسطینی حکومت پر عائد پابندیوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فلسطینی پر یہ پابندیاں ختم ہونی چاہیں۔ انہوں نے کہا فلسطینی عوام تشدد کو تمام صورت میں مسترد کرتے ہیں۔ انہوں نے اسرائیل پر زور دیا کہ دونوں کو مل کر تشدد کے سلسلے کو ختم کرنا چاہیے۔ فلسطین پر عائد پابندیوں کی وجہ سے فلسطین کی معیشت بری طرح متاثر ہوئی ہے۔گزشتہ سال جنوری میں ہونے والے انتخابات میں حماس کی کامیابی کے بعد فسلطین پر مغربی دنیا کی طرف سے معاشی امداد بند کر دی گئی تھی۔ فلسطین میں تشکیل دی جانے والی حکومت میں مختلف الخیال سیاسی نمائندے شامل ہیں جن میں سے کچھ اسرائیل کو تسلیم بھی کرتے ہیں۔ امریکہ نے بھی فلسطینی حکومت میں شامل نئے وزیر خزانہ سے بات کرنے کے لیے اپنے دروازے کھلے رکھنے کے اشارے دیئے ہیں۔ | اسی بارے میں غزہ میں اسرائیلی ’نسل پرستی‘24 February, 2007 | آس پاس نابلوس میں اسرائیلی آپریشن25 February, 2007 | آس پاس رملہ میں چھاپہ، اٹھارہ گرفتار07 March, 2007 | آس پاس لبنان پرحملے کا منصوبہ تھا: اولمرت09 March, 2007 | آس پاس حماس اور الفتح میں لڑائی پھر شروع 11 March, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||