رائس، عباس اوراولمرت ملاقاتیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس نے غرب اردن میں فلسطینی صدر محمود عباس اور یروشلم میں اسرائیلی وزیر اعظم ایہود اولمرت سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کی ہیں۔ کونڈولیزا رائس کی فلسطینی صدر اور اسرائیلی وزیر اعظم سے ملاقاتوں کے بعد کوئی تفصیل سامنے نہیں آ سکی۔ ان ملاقاتوں کا مقصد مشرق وسطی میں امن کے عمل کو بحال کرنا تھا۔ فلسطینی صدر محمود عباس سے ملاقات کے بعد کونڈولیزا رائس نے واشنگٹن کے اس مؤقف کا اعادہ کیا کہ جب تک فلسطین میں قومی یکجہتی کی حکومت قائم نہیں ہو جاتی اور اپنے پروگرام کا اعلان نہیں کر دیتی امریکی حکومت اس کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کرے گی۔ ایہود اولمرت نے کونڈولیزارائس سے ملاقات سے پہلے یہ دعویٰ کیا تھا کہ اسرائیل اور امریکہ اس بات پر متفق ہو گئے ہیں کہ فلسطین کی قومی یکجہتی کی حکومت کا اس وقت تک بائیکاٹ جاری رکھا جائے گا جب تک نئی حکومت تشدد کی راہ ترک کرکے اسرائیل کو تسلیم نہیں کر لیتی۔ حماس ابھی تک اسرائیل اور امریکہ کی ان شرائط کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہے۔ کونڈولیزارائس کی فلسطینی صدر محمود عباس اور اسرائیلی وزیر اعظم ایہود اولمرت سے سوموار کو سہ فریقی ملاقات متوقع ہے لیکن اس کے بارے میں مبصرین بہت زیادہ پر امید نہیں ہیں۔ | اسی بارے میں اسرائیل اور امریکہ بائیکاٹ پر متفق18 February, 2007 | آس پاس سکیورٹی منصوبے کا اچھا آغاز: رائس17 February, 2007 | آس پاس مسجد الاقصی کے قریب جھڑپیں09 February, 2007 | آس پاس معاشی بائیکاٹ ختم کیا جائے: ہنیہ13 February, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||