’اسرائیلی صدر سبکدوش ہوجائیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیلی اٹارنی جنرل نے کہا ہے کہ اسرائیلی صدر موشے کاتسو کو ان کے مقدمات کے فیصلے تک اپنے فرائض سے سبکدوش ہو جانا چاہیے۔ اٹارنی جنرل نے یہ بیان سپریم کورٹ کی درخواست پر دیا ہے۔ حکومت کے پاس صدر کاتسو کو ان کے عہدے سے ہٹانے کے لیے اختیارات نہیں ہیں۔ تاہم صدر کاتسوان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔ یہ الزامات بہت سی خواتین کارکنوں کی طرف سے لگائے گئے ہیں۔ دو ہفتے پہلے، اسرائیلی پولیس نے کہا تھا کہ ان کے پاس صدر کے خلاف کافی ثبوت موجود ہیں۔ آئندہ چند ہفتوں میں ان مقدمات کا فیصلہ متوقع ہے۔ اٹارنی جنرل مینیچم ماذوذ کا کہنا ہے کہ ریاست کی سربراہی خاص اہمیت کی حامل ہوتی ہے اور یہ ریاستی حکمرانی کی علامت بھی ہے۔ چنانچہ ایسے حالات میں عوام کی توقعات کے مطابق صدر کو اپنے فرائض سے سبکدوش ہو جانا چاہیے‘۔ اٹارنی جنرل نے یہ تجویز بھی پیش کی ہے کہ اگر صدر خود سے ایسا کرنے سے معذور ہیں تو پارلیمنٹ کو اس سلسلے میں کوئی قدم اٹھانا چاہیے‘۔ تاہم صدر کاتسو کی طرف سے فوراً اس کا جواب نہیں آیا۔ سن دو ہزار میں یہ صدر سات سالوں کے لیے منتخب ہوئے تھے۔ انہوں نے عہدہ چھوڑنے سے انکار کر دیا ہے۔ اسرائیلی صدر کا کہنا ہے کہ ’ بغیر کسی تحقیق اور عدالتی کارروائی کے انہیں عوامی سزا دی جا رہی ہے‘۔ یہ کہا جا رہا ہے کہ اٹارنی جنرل کے بیان کے ذریعے صدر پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ مستعفی ہو جائیں۔ | اسی بارے میں اسرائیلی صدر کا جنسی سکینڈل24 August, 2006 | آس پاس اسرائیلی صدر کو مقدمے کا سامنا16 October, 2006 | آس پاس اسرائیلی وزیر کا دورہ منسوخ 29 October, 2006 | آس پاس اسرائیل سے بدلے کی ایرانی دھمکی20 October, 2006 | آس پاس بشرالاسد کو اسرائیل سے دعوت 11 October, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||