حماس الفتح سے مذاکرات کی خواہاں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فلسطینی تنظیم حماس کا کہنا ہے کہ وہ اپنی مخالف تنظیم الفتح سے مفاہمتی بات چیت کے لیے تیار ہے۔ حماس کی ویب سائٹ پر اسماعیل ہنیہ کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ جون میں الفتح سے چھینا گیا غزہ کا کنٹرول بھی واپس کرنے کو تیار ہو سکتے ہیں۔ بیان کے مطابق اسماعیل ہنیہ کا کہنا ہے کہ اس ساحلی علاقے پر ان کی تنظیم کا قبضہ ’عارضی‘ ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ’ فلسطینی مذاکرات کے حوالے سے ہم الفتح کے ساتھ کسی بھی عرب ملک کے دارالحکومت میں بات چیت کے لیے تیار ہیں‘۔ حماس کے رہنما کا کہنا ہے کہ یہ ملاقات عید کے بعد ہو سکتی ہے تاہم الفتح کے ایک سینیئر افسر احمد عبدالرحمان کا کہنا ہے کہ کسی قسم کے مذاکرات کو کوئی منصوبہ نہیں اور حماس عوام کو گمراہ کر رہی ہے۔ انہوں نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا’ ہمیں اس قسم کے کسی مذاکرات کے بارے میں خبر نہیں‘۔ اسماعیل ہنیہ کے ایک مشیر احمد یوسف نے بی بی سی کو بتایا کہ حماس ہمیشہ سے الفتح کے ساتھ مذاکرات کے دوبارہ آغاز کی خواہاں رہی ہے۔’ ہم ہمیشہ سے کہتے رہے ہیں کہ ہم مذاکرات کی میز پر معاملات کے بارے میں بات کرنے کو تیار ہیں اور ہم اس بات پر تیار ہیں کہ مصر یا سعودی عرب جیسے ملک اس قسم کے مذاکرات کا انتظام کریں‘۔ احمد یوسف کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان کی تنظیم فلسطینی ریاست کے اندر ایک اور ریاست قائم کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتی۔ | اسی بارے میں غزہ اسرائیل کے لیے ’دشمن علاقہ‘19 September, 2007 | آس پاس فلسطین:انتخابی قانون میں تبدیلی02 September, 2007 | آس پاس حماس کے خلاف احتجاج، جلوس01 September, 2007 | آس پاس حماس اراکین کے بینک کھاتے منجمد14 August, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||