غزہ اسرائیل کے لیے ’دشمن علاقہ‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیل فلسطینیوں کی طرف سے مستقل راکٹ باری کی وجہ سے غرہ کی پٹی کو ’دشمن علاقہ‘ قرار دینے والا ہے۔ اس فیصلے کے بعد اسرائیل غرب اردن اور غزہ کی پٹی کو بجلی، پانی اور ایندھن کی ترسیل روک سکتا ہے۔ فلسطینی کا کہنا ہے کہ اس طرح کا اقدام لوگوں کو اجتماعی سزا دینے کے مترادف ہو گا۔ دو ہفتے قبل اسرائیلی فوجی اڈے پر راکٹ گرنے کی وجہ سے انہتر افراد زخمی ہونے کے واقعے کے بعد سےاسرائیلی حکومت پر فلسطینیوں کے خلاف جوابی کارروائی کرنے کے لیے عوامی دباؤ بڑھ گیا ہے۔ فلسطینی شدت پسندوں کا کہنا ہے کہ راکٹ حملہ اسرائیلی فوج کی طرف سے غزہ اور غرب اردن میں کارروائیوں کے ردعمل میں کیا گیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق اسرائیلی فوجی حکام کو توقع ہے کہ نئے اقدامات سے حماس پر جس نے اس سال جون میں حریف دھڑے فتح گروپ کو غزہ کے علاقے سے بے دخل کر دیا تھا، راکٹ حملے روکنے کے لیے دباؤ بڑھے گا۔ ایک اسرائیلی سرکاری اہلکار نے امریکی خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ اسرائیلی وزیر دفاع ایہود براک نے کابینہ کے اجلاس میں کہا تھا کہ ان اقدامات کا مقصد حماس کو کمزور کرنا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ایہود براک کا یہ بھی کہنا تھا کہ اسرائیل غزا میں ایک بڑی فوجی کارروائی کرنے کے بارے میں بھی غور کر رہا ہے۔ وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ وہ غزہ میں ایک بڑی کارروائی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ غزہ کو دشمن کا علاقہ قرار دینے سے اسرائیل یہ دلیل دے سکتا ہے کہ وہ بین الاقوامی قوانین کے تحت غزہ کی پندرہ لاکھ آبادی کو بنیادی سہولیات فراہم کرنے کا اخلاقی طور پر پابند نہیں رہا ہے۔ لیکن موجودہ صورت حال کے تحت بین الاقوامی قوانین اب بھی اسرائیل کو اس بات کا پابند کرتے ہیں وہ اس ساحلی پٹی کو جہاں سے اس نے دو سال قبل اپنی فوجیں واپس بلالی تھیں، تمام بنیادی سہولیات فراہم کرے کیونکہ وہ اب بھی اس کی سرحدوں، فضائی حدود اور ساحل کو کنٹرول کرتا ہے۔ | اسی بارے میں اسرائیل: راکٹ سے درجنوں زخمی11 September, 2007 | آس پاس حماس کے خلاف احتجاج، جلوس01 September, 2007 | آس پاس غزہ، ایندھن کے لیے امداد بحال22 August, 2007 | آس پاس غزہ: شدید معاشی بحران کا خدشہ10 August, 2007 | آس پاس غزہ میں ایندھن کی سپلائی کی اجازت19 August, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||