غزہ، ایندھن کے لیے امداد بحال | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یورپی یونین نے غزہ کی پٹی میں قائم واحد بجلی گھر کو ایندھن کی فراہمی کے لیے امداد عارضی طور پر دوبارہ شروع کر دی ہے۔ یورپی یونین نے گزشتہ جمعرات کو یہ امداد اس وقت بند کر دی تھی، جب یہ بات سامنے آئی تھی کہ حماس غزہ میں بجلی کے بِلوں پر ٹیکس عائد کرنے کے منصوبے پر غور کر رہی ہے۔ حماس نے حال ہی میں غزہ پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ امداد بند ہونے کی وجہ سے ہزاروں فلسطینی گھروں میں بجلی کی فراہمی منقطع ہو گئی تھی، مگر اب اس کے بحال ہونے کی امید ہے۔ حماس کے ایک سینئیر لیڈر نے بجلی پر ٹیکس لگانے کے منصوبے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ اس سلسلے میں یورپی یونین کو تسلی کروائی گئی ہے۔ ایندھن سے لدے تین ٹرک نہال اوز کراسنگ پر اسرائیل سے غزہ کی پٹی میں داخل ہوئے۔ امداد دوبارہ شروع ہونے سے پہلے یورپی یونین کے اہلکاروں نے فلسطینی وزیر اعظم سلام فیاض سے غرب اردن میں ملاقات کی تھی۔ منگل کو جاری کیے جانے والے ایک بیان میں یورپی کمیشن نے کہا کہ وزیر اعظم فیاض کے ساتھ اس بات پر سمجھوتہ ہو گیا ہے کہ ’غزہ کو ایندھن کے لیے دی جانے والی امداد کا باقاعدہ حساب رکھا جائے گا تاکہ اس کا صحیح استعمال یقینی بنایا جا سکے۔‘ ایندھن کی سپلائی کی نگرانی کے لیے یورپی یونین اور فلسطینی اتھارٹی کی ایک مشترکہ کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ یورپی یونین کے اہلکاروں نے کہا کہ اب بجلی کی پیداوار اور سپلائی کا انتظام صحیح طریقے سے کیا جائے گا۔ اس سے پہلے سابق فلسطینی وزیر اعظم اسماعیل ہنیہ نے کہا تھا کہ اس امداد کو بند کرنا فلسطینیوں کو مشترکہ سزا دینے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ حماس کے خلاف الزامات فلسطینی اتھارٹی کے چیئرمین محمود عباس کی حکومت طرف سے حماس کو بدنام کرنے کی کوشش ہیں۔ | اسی بارے میں غزہ میں ایندھن کی سپلائی کی اجازت19 August, 2007 | آس پاس امداد بحال کر دی جائے گی: امریکہ17 June, 2007 | آس پاس حماس اراکین کے بینک کھاتے منجمد14 August, 2007 | آس پاس غزہ کے راستے کھولے جائیں: یواین14 July, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||