’اسرائیل حماس سے جنگ بندی کرے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیل کے مشہور لکھاریوں اور تعلیم و تدریس سے وابسطہ افراد نے حکومت سے کہا ہے کہ وہ غزہ پر کنٹرول کرنے والی شدت پسند تنظیم سے جنگ بندی کے لیے مذاکارت کرے۔ انہوں نے ایک درخواست میں کہا کہ ایسا کرنے سے اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے مصائب میں کمی آئے گی۔ اس درخواست پر دستخط کرنے والوں میں بین الاقوامی شہرت یافتہ مصنف آموس او، ڈیوڈ گراسمین، اور اے بی یہوشوا شامل ہیں۔ اسرائیل نے اس درخواست کو یہ کہہ کر رد کر دیا ہے کہ جو گروہ اسرائیل کی تباہی کا خواہاں ہے اس سے کسی قسم کے مذاکرات نہیں ہو سکتے۔ تاہم درخواست میں کہا گیا کہ اسرائیل نے ماضی میں اپنے بدترین دشمنوں سے بھی مذاکرات کیے ہیں۔ اس کے جواب میں اسرائیل کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان مارک ریگیو نے درخواست کو خلافِ منشا عمل کہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’اسرائیلی حکومت، یورپی اتحاد، کینیڈا اور امریکہ کا موقف ہے کہ ہم فلسطینی اعتدال پسند رہنماؤں سے ضرور مذاکرات کریں۔‘ انہوں نہ کہا کہ’حماس کو تسلیم کرنے اور جائز بنانے سے صرف انتہا پسند مضبوط اور اعتدال پسند کمزور ہوں گے۔‘ اسرائیل کے حماس سے کوئی روابط نہیں ہیں اور وہ اسے ایک دہشگ گرد گروہ سمجھتا ہے۔ | اسی بارے میں غزہ اسرائیل کے لیے ’دشمن علاقہ‘19 September, 2007 | آس پاس انصاف میں ناکامی کی نصف صدی16 September, 2007 | آس پاس اسرائیل نے شام پر حملہ کیا: امریکہ12 September, 2007 | آس پاس فلسطین:انتخابی قانون میں تبدیلی02 September, 2007 | آس پاس اسرائیلی فائرنگ، 7 فلسطینی ہلاک25 August, 2007 | آس پاس غزہ، ایندھن کے لیے امداد بحال22 August, 2007 | آس پاس غزہ پر اسرائیلی حملہ، تین ہلاک21 August, 2007 | آس پاس اسرائیلی فضائی حملہ، ایک ہلاک04 August, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||