 |  سینکڑوں فلسطینیوں کا قتل عام ہوا  سولہ ستمبر انیس سو بیاسی کو لبنان کی عیسائی ملیشیا نے اِن کیمپوں میں گھس کر سینکڑوں فلسطینیوں کا قتل عام کیا تھا جب کہ اسرائیلی فوجی اِن کیمپوں کو گھیرے میں لیے رہے  |
لبنان کے دارالحکومت بیروت میں فلسطینی پناہ گزیں کے صبرا اور شاتیلا کیمپوں میں قتل عام کو پچیس سال پورے ہو رہے ہیں۔ سولہ ستمبر انیس سو بیاسی کو لبنان کی عیسائی ملیشیا نے اِن کیمپوں میں گھس کر سینکڑوں فلسطینیوں کا قتل عام کیا تھا جب کہ اسرائیلی فوجی اِن کیمپوں کو گھیرے میں لیے رہے۔ اس بارے میں بی بی سی کی عرب ورلڈ ریجنل ایڈیٹر، کیرن اوبرائن نے ایک مراسلے میں کہا ہے کہ: ’شاید یہ کبھی بھی معلوم نہ ہوسکے کہ پچیس برس پہلے صبرا اور شاتیلا کیمپوں میں مسلسل تین روز جاری رہنے والے اِس قتل عام میں کُل کتنے فلسطینی ہلاک ہوئے تھے۔ محتاط اندازوں کے مطابق یہ تعداد سینکڑوں میں ہے جب کہ کچھ کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے کی تعداد ہزاروں میں تھی۔ اپنے لیڈر بشیر جمائل کے قتل کا بدلہ لینے کے لیے جب لبنان کی عیسائی ملیشیا صبرا اور شاتیلا کیمپوں میں گھسی تو اسرائیلی فوج نے انہیں روکنے کی کوئی کوشش نہیں کی۔ بشیر جمائیل اُس وقت لبنان میں اسرائیل کے ایک اہم وفادار تھے۔ اس قتل عام نے فلسطینی نفسیات اور لبنان اسرائیل تاریخ پر ایک ایک ایسا گھاؤ ڈالا جس کا نشان تک نہیں مٹتا۔ اسرائیل کے سابق وزیر اعظم ایرئیل شیرون اُس وقت اسرائیل کے وزیر دفاع تھے اور اُنہوں نے اِس الزام کو رد کردیا تھا کہ اسرائیلی فوجی اِس قتل عام کو روکنے میں ناکام رہے لیکن بعد میں ایرئیل شیرون کو ایک اسرائیلی تفتیش میں اس واقع کا ذاتی طور پر ذمہ دار قرار دیا گیا اور انہیں اپنے عہدے سے استعفی دینا پڑا۔
 | بچ رہنے والوں کا عزم   صبرا اور شاتیلا پناہ گزین کیمپوں میں اِس قتل عام میں بچ رہنے والے پر عزم ہیں کہ ان ہلاکتوں کو کبھی بھی نہ بھلایا جاسکے اگرچہ انصاف کے حصول کے لیے ان کی کوششیں گزشتہ پچیس سال کے دوران زیادہ تر ناکام ہی رہی ہیں  |
اِس قتل عام میں بچ جانے والے اور ہلاک ہونے والوں کے رشتہ دار عمومی طور پر اسرائیل اور خصوصی طور پر ایرئیل شیرون کو اس واقع کا ذمہ دار قرار دیتے رہے ہیں۔ ایرئیل شیرون دو برس قبل فالج کا شکار ہونے کے بعد سے مستقل بے ہوشی کی حالت میں ہیں جب کہ لبنان میں ان کے بیشتر سیاسی سیاسی اب اس دنیا میں نہیں رہے لیکن صبرا اور شاتیلا پناہ گزین کیمپوں میں اِس قتل عام میں بچ رہنے والے پر عزم ہیں کہ ان ہلاکتوں کو کبھی بھی نہ بھلایا جاسکے اگرچہ انصاف کے حصول کے لیے ان کی کوششیں گزشتہ پچیس سال کے دوران زیادہ تر ناکام ہی رہی ہیں۔ |