فلسطینیوں کو فلسطین مبارک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیل کے وزیراعظم آریئل شیرون کو کنیسٹ نے یہ اجازت دے دی ہے کہ غزہ کی چھوٹی سی پٹی سے یہودی بستیاں ہٹالیں۔ آٹھ ہزار یہودی بستیوں میں بنے ہوئےگھر، ان کے سامنے نفاست سے ترشے ہوئے قالین کی طرح بچھے ہوئے سر سبز لان، سڑکیں، بجلی کے کھمبے، بجلی پیدا کرنے والے جینیریٹر، ٹیلیفوں کے تار، پانی کے پائپ، گندے پانی کے نکاس کے نالے یہ سب بلڈوزروں سے ملبے کے ڈھیر میں بدل دیں اور اپنے آٹھ ہزار ہم وطنوں کو بسوں میں بٹھا کر لے جائیں۔ انہیں نقصانات کا معاوضہ ادا کریں اور ملبہ فلسطینیوں کے لیے چھوڑ دیں۔ دنیا بھر میں لبرل اور جمہوریت پسند آریئل شیرون پر تعریفوں کے ڈونگرے برسا رہے ہیں کہ وہ جو جنگی شکرا تھا اب امن کی فاختہ بن گیا ہے۔ اس نے اسرائیلی فلسطینی مسئلے کے حل کے لیے پیش قدمی کی ہے۔ ایک ایسے عمل کی داغ بیل ڈال دی ہے جسے واپس پلٹانا ناممکن ہوگا۔ حماس نے بڑے طمطراق کے ساتھ دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل ایک بار پھر دہشت کے خلاف دہشت کی کارروائیوں سے ڈر کے بھاگ نکلا ہے بالکل اسی طرح جیسے حزب اللہ نے اسے لبنان کے جنوب سے بھاگنے پر مجبور کردیا تھا۔ اس جوش و خروش میں اس بات کو دہرانے کی ضرورت نہیں سمجھی جارہی ہے کہ غرب اردن کے بارے میں اسرائیل کی پالیسی کیا رہے گی۔ اس علاقے کے چار لاکھ بیس ہزار یہودی بدستور وہاں آباد رہیں گے۔ جو نئی بستیاں بسائی جارہی ہیں ان پر کوئی روک ٹوک نہیں ہوگی۔ جون دوہزار دو میں سات سو کلومیٹر (چار سو چالیس میل( لمبی، آٹھ میٹر اونچی جس فصیل کی تعمیر غرب اردن میں شروع کی گئی تھی وہ جاری ہے اور رہے گی۔ دیوار برلن سے زیادہ ظالم دیوار جو فلسطینیوں کی زمین پر اس طرح کھڑی کی جارہی ہے کہ گاؤں کے گاؤں کٹ کے رہ گئے ہیں ۔ کسان اپنے کھیتوں میں نہیں جا سکتے۔ بستیوں کی اندر سے اس طرح گزرتی ہے کہ آدھے لوگ فصیل کے ایک طرف اور آدھے دوسری طرف رہ جاتے ہیں۔ قلقیلیہ کو اس نےتین طرف سے ایسے گھیرے میں لے لیا ہے کہ اسے پانی تک کی رسائی حاصل نہیں ہے۔ اس کے پھلوں اور میوے کے باغات کٹ کے رہ گئے ہیں۔
یہ بات کوئی کیوں نہیں دیکھ رہا ہے کہ امن کی داغ بیل رکھنے والے آریئل شیروں کی غرب اردن کے لیے کیا پالیسی ہے۔ کیا اسے جنوبی افریقہ کی نسلی تفریق کے دور کی طرح چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں نہیں بانٹا جارہا ہے؟ وہ بانتستان جن کے پاس کوئی بین الاقوامی سرحد نہیں ہوگی، جو پانی کے وسائل سے محروم ہوکر اسرائیل کے رحم و کرم پر ہونگے، جن کے اندر جانے کے لئے نہ کوئی زمینی راستہ ہوگا نہ آسمانی۔ آریئل شیرون کا پچیس اکتوبر کا بیان آخر کیوں یاد نہیں ہے کہ ہماری اصل منزل یہ ہے کہ ان زمینوں پر اپنی گرفت مضبوط کی جائے جو ہماری بقا کے لیے لازم و ملزوم کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اسی مہینے کے شروع میں وزیر اعظم کے چیف آف سٹاف نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ غزہ سے بستیاں ہٹانے کا عمل فلسطینیوں کے ساتھ امن کے عمل کو کافور میں لپیٹ کر رکھنے کی جانب پہلا قدم ہوگا تاکہ فلسطنی ریاست کے امکانات غیر معینہ مدت کے لیے معدوم ہو جائیں۔ لہٰذا بغلیں بجانے والے حماس کے لوگ فلسطینی کابینہ کے غسان خطیب کا یہ جملہ یاد رکھیں کہ غزہ کو چھوڑ کر جانے والا فلسطینیوں کو ان کی ریاست دینے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||