’اسرائیلی ریاست ختم ہو جائی گی‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیل کے وزیرِ اعظم ایہود اولمرت نے خبردار کیا ہے کہ اگر فلسطین کے ساتھ دو ریاستوں کے قیام کے مسئلے کے لیے کیے جانے والے مذاکرات ناکام ہو جاتے ہیں تو اس کا مطلب اسرائیلی ریاست کا خاتمہ ہو گا۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر فلسطینی ریاست نہ بنی تو ’جنوبی افریقہ کی طرز پر جدوجہد شروع ہو جائے گی جس میں اسرائیل ہار جائے گا۔‘ ایہود اولمرت امریکی شہر اناپولیس میں فلسطینی رہنما محمود عباس کے ہمراہ ایک کانفرنس میں شرکت کے بعد واپس جا رہے تھے۔ دونوں نے باضابطہ طور پر مشرقِ وسطیٰ امن مذاکرات شروع کرنے کا اعادہ کیا تھا۔ دونوں رہنماؤں نے اگلے برس کے خاتمے تک امریکی حمایت سے امن معاہدے تک پہنچنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ امریکی صدر جارج بش نے اناپولیس کی کانفرنس کو سات برس میں پہلے جامع عرب اسرائیل امن مذاکرات کہا ہے۔ انہوں نے اسے مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک پرامید آغاز کہا۔ اولمرت نے کہا کہ یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ انہوں نے فلسطینیوں کی بڑھتی ہوئی آبادی کی وجہ سے اسرائیلی ریاست کو درپیش جغرافیائی خدشے کا اظہار کیا ہو۔ ہیرٹز اخبار میں چھپنے والے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ ’اگر ووہ دن آتا ہے جو دو ریاستی حل ناکام ہو جاتا ہے اور ہمیں ووٹنگ کے مساوی حقوق کے لیے جنوبی افریقہ کی طرز کی جدوجہد کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو اگر ایسا ہوتا ہے تو اسرائیلی ریاست ختم ہو جائے گی۔‘ اس سے قبل امریکی صدر جارج بش نے کہا تھا کہ دونوں فریق اگلے برس کے آخر تک امن کا ایک جامع معاہدہ کرنے کے پابند ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ امن کانفرنس کا افتتاح کرتے ہوئے صدر جارج بش نے کہا تھا کہ مذاکرات کے دوران وہ تمام حل طلب مسائل جو فریقین کے درمیان موجود ہیں زیرِ بحث لائے جائیں گے۔
محمود عباس نے کہا کہ مذاکرات میں مہاجرین کے مستقبل اور یروشلم کے فلسطینی ریاست کے دارالخلافے کی حیثیت پر ہر قیمت پر بات ہونی چاہیے۔ اسرائیلی وزیرِ اعظم ایہود اولمرت کا کہنا تھا کہ اسرائیل امن کے لیے ’سمجھوتے‘ پر تیار ہے۔ اس کانفرنس میں چالیس سے زیادہ ممالک کے سفارت کار اورکئی بین الاقوامی اداروں کے نمائندے شامل ہیں۔ ایک موقع پر صدر بش سٹیج سے ذرا پیچھے ہوگئے تاکہ اسرائیلی اور فلسطینی رہنما ہاتھ ملائیں۔ اناپولیس کی تقریبات کے بعد امریکہ نے نیٹو کے ایک سابق کمانڈر جنرل جیمز جونز کو مشرقِ وسطیٰ میں سکیورٹی امور کا نیا ایلچی مقرر کیا ہے۔ امریکی خارجہ سکریٹری کونڈولیزا رائس کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں سکیورٹی کا قیام امن کا یقینی راستہ ہے اور جنرل جونز اس مقصد کے لیے موزوں شخص ہیں۔ | اسی بارے میں مشرقِ وسطیٰ: نئے ایلچی کا تقرر29 November, 2007 | آس پاس اگلے برس تک امن معاہدے پر اتفاق28 November, 2007 | آس پاس مشرق وسطی امن کانفرنس 26 November, 2007 | آس پاس غزہ:الفتح ریلی پر فائرنگ، چھ ہلاک12 November, 2007 | آس پاس ’فلسطینی ریاست، ہماری ترجیح‘16 October, 2007 | آس پاس مشرق وسطی کے ثالثی گروپ پرتنقید15 October, 2007 | آس پاس حماس الفتح سے مذاکرات کی خواہاں11 October, 2007 | آس پاس غزہ اسرائیل کے لیے ’دشمن علاقہ‘19 September, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||