BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 30 November, 2007, 02:53 GMT 07:53 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’اسرائیلی ریاست ختم ہو جائی گی‘
ایہود اولمرت، صدر بش اور محمود عباس
صدر بش نے کانفرنس کو امن کے لیے ایک پرامید آغاز کہا ہے
اسرائیل کے وزیرِ اعظم ایہود اولمرت نے خبردار کیا ہے کہ اگر فلسطین کے ساتھ دو ریاستوں کے قیام کے مسئلے کے لیے کیے جانے والے مذاکرات ناکام ہو جاتے ہیں تو اس کا مطلب اسرائیلی ریاست کا خاتمہ ہو گا۔

انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر فلسطینی ریاست نہ بنی تو ’جنوبی افریقہ کی طرز پر جدوجہد شروع ہو جائے گی جس میں اسرائیل ہار جائے گا۔‘

ایہود اولمرت امریکی شہر اناپولیس میں فلسطینی رہنما محمود عباس کے ہمراہ ایک کانفرنس میں شرکت کے بعد واپس جا رہے تھے۔ دونوں نے باضابطہ طور پر مشرقِ وسطیٰ امن مذاکرات شروع کرنے کا اعادہ کیا تھا۔

دونوں رہنماؤں نے اگلے برس کے خاتمے تک امریکی حمایت سے امن معاہدے تک پہنچنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔

امریکی صدر جارج بش نے اناپولیس کی کانفرنس کو سات برس میں پہلے جامع عرب اسرائیل امن مذاکرات کہا ہے۔ انہوں نے اسے مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک پرامید آغاز کہا۔

اولمرت نے کہا کہ یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ انہوں نے فلسطینیوں کی بڑھتی ہوئی آبادی کی وجہ سے اسرائیلی ریاست کو درپیش جغرافیائی خدشے کا اظہار کیا ہو۔

ہیرٹز اخبار میں چھپنے والے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ ’اگر ووہ دن آتا ہے جو دو ریاستی حل ناکام ہو جاتا ہے اور ہمیں ووٹنگ کے مساوی حقوق کے لیے جنوبی افریقہ کی طرز کی جدوجہد کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو اگر ایسا ہوتا ہے تو اسرائیلی ریاست ختم ہو جائے گی۔‘

اس سے قبل امریکی صدر جارج بش نے کہا تھا کہ دونوں فریق اگلے برس کے آخر تک امن کا ایک جامع معاہدہ کرنے کے پابند ہیں۔

مشرقِ وسطیٰ امن کانفرنس کا افتتاح کرتے ہوئے صدر جارج بش نے کہا تھا کہ مذاکرات کے دوران وہ تمام حل طلب مسائل جو فریقین کے درمیان موجود ہیں زیرِ بحث لائے جائیں گے۔

امن کانفرنس میں چالیس ممالک کے نمائندوں نے شرکت کی اور اس میں بین الاقوامی اداروں کی بھی نمائندگی تھی

محمود عباس نے کہا کہ مذاکرات میں مہاجرین کے مستقبل اور یروشلم کے فلسطینی ریاست کے دارالخلافے کی حیثیت پر ہر قیمت پر بات ہونی چاہیے۔

اسرائیلی وزیرِ اعظم ایہود اولمرت کا کہنا تھا کہ اسرائیل امن کے لیے ’سمجھوتے‘ پر تیار ہے۔

اس کانفرنس میں چالیس سے زیادہ ممالک کے سفارت کار اورکئی بین الاقوامی اداروں کے نمائندے شامل ہیں۔ ایک موقع پر صدر بش سٹیج سے ذرا پیچھے ہوگئے تاکہ اسرائیلی اور فلسطینی رہنما ہاتھ ملائیں۔

اناپولیس کی تقریبات کے بعد امریکہ نے نیٹو کے ایک سابق کمانڈر جنرل جیمز جونز کو مشرقِ وسطیٰ میں سکیورٹی امور کا نیا ایلچی مقرر کیا ہے۔

امریکی خارجہ سکریٹری کونڈولیزا رائس کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں سکیورٹی کا قیام امن کا یقینی راستہ ہے اور جنرل جونز اس مقصد کے لیے موزوں شخص ہیں۔

اسی بارے میں
مشرق وسطی امن کانفرنس
26 November, 2007 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد