BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 26 November, 2007, 15:21 GMT 20:21 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مشرق وسطی امن کانفرنس

 ایہود اولمرٹ اور محمود عباس
کانفرنس سے قبل صدر بش ایہود اولمرٹ اور محمود عباس سے تفصیلی گفتگو کریں گے۔
سات برس کے تعطل کے بعد ایک بار پھر امریکہ مشرق وسطی امن کانفرنس کی میزبانی کررہا ہے۔ فلسطین اور اسرائیل کے سوال پر یہ کانفرنس ماضی کی کانفرنس سے اس لحاظ سے مختلف ہے کہ اس میں اسرائیل اور فلسطینی رہنماؤں کے علاوہ عرب ممالک اور پاکستان اور ہندوستان جیسے غیر متعلقہ ممالک کے رہنما بھی تین روزہ کانفرنس میں شرکت کررہے ہیں۔

منگل کو کانفرنس کے آغاز سے قبل امریکی صدر جارج بش اسرائیل کے وزير اعظم ایہود اولمرٹ اور فلسطینی صدر محمود عباس سے پہلے علیحدہ اور بعد میں ایک ساتھ تفصیلی گفتگو کریں گے۔ منگل کی کانفرنس کا ایجنڈا وہی ہے جو سات سال قبل کمیپ ڈیوڈ میں تھا۔ ایک آزاد فلسطینی مملکت کے قیام کا خاکہ تیار کرنا، یروشلم کا مستقبل، یہودی بستیوں کا سوال، فلسطینی پناہ گزینوں کی واپسی، سلامتی اور دیگر پڑوسیوں سے تعلقات۔

صدر بش کی کوشش ہے کہ دو ہزار نو میں اپنے عہدے سے سبکدوش ہونے سے قبل وہ اسرائیل اور فلسطینی تنازعہ کا ایک حتمی حل تلاش کرلیں۔

امن مزاکرات کو سعودی عرب اور شام کی شرکت سے حوصلہ ملاہے لیکن سخت گیر فلسطینی تنظیم حماس اور ایران اس کے خلاف ہیں۔ایران کے صدر محمود احمدی نژاد نے اتوار کی شب سعودی عرب کے شاہ سے فون پر بات کی اور ان سے کانفرنس میں سعودی نمائندے نہ بھیجنے کی اپیل کی۔

یہ کانفرنس ایک ایسے وقت ہورہی ہے جب فلسطینی عوام فتح اور حماس گروپ میں پوری طرح منقسم ہیں اور خود صدر عباس کی قیادت پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔

اسرائیلی وزیر اعظم ایہود اولمرٹ بدعنوانی کے الزامات اور لبنان کی جنگ کے شدید سیاسی بحران سے گزر رہے ہیں۔ ادھر میزبان ملک امریکہ کے صدر جارج بش عراق کی ناپسندیدہ جنگ کے سبب اپنی مقبولیت کھوتے جارہے ہیں۔

مشرق وسطی امن کانفرنس ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔ گزشتہ کئی روز سے فلسطینی اور اسرائیل مزاکرات کار کانفرنس کے لیے ایک مشترکہ اعلامیہ پر بات چيت کررہے تھے۔ اور ابھی تک اس اعلامیہ پر اتفاق نہیں ہو سکا ہے۔

اسرائیل اور فلسطینیوں میں کسی طرح کے معاہدے کا مطلب یہ ہوگا کہ اسرائیل کو1967 کی جنگ میں قبضہ کی گئی بیشتر زمینوں کو فلسطینیوں کو واپس کرنا ہوگا۔ اسرائیل میں انتہا پسند عناصر کی جانب سے اس کی شدید مخالفت ہوگی اس کے عدلاوہ یروشلم کا سوال بھی کم پیچیدہ نہیں ہوگا۔

لیکن بات چیت میں شامل کئی مذاکرات کاروں کا رویہ بہت مثبت ہے ان کا کہنا ہےکہ سنہ دو ہزار میں صدر بل کلٹن کی میزبانی میں کمیپ ڈیوڈ مذاکرات میں بات چيت بہت آگے بڑھی تھی اور ان مذاکرات میں شروعات پہلے کی پیش رفت سے آگے کی ہوگی۔

اگر کانفرنس کے اختتام پر اسرائیل اور فلسطینی قیادت آئندہ ادوار کے مذاکرات کے لیے تیار ہوجاتے ہیں تو امریکہ میں اس کانفرنس پر اطمینان کا اظہار کیا جائے گا۔فلسطینی اور دیگر عرب ممالک فلسطینی مملکت کے قیام سے کم کسی پہلو پر مطمئن نہیں ہوں گے۔ امریکہ اسی لیے اس کانفرنس کو ایک فلسطینی مملکت کے قیام کے لیے بین لااقوامی حمایت حاصل کرنے کی کوشش قرار دے رہا ہے۔

فائل فوٹو
اسرائیل اور فلسطینیوں میں کسی طرح کے معاہدے کا مطلب یہ ہوتا کہ اسرائیل کو1967 کی جنگ میں قبضہ کی گئی بیشتر زمینوں کو فلسطینیوں کو واپس کرنا ہوگا

عوامی راۓ عامہ کے فلیسطینی مرکز کے ایک جائزے کے مطابق تقریبا سڑسٹھ فی صد فلیسطینی امن مذاکرات کررہے ہیں۔ لیکن انسٹھ فی صد فلیسطینیوں کا خیال ہے کہ ایہیود اولمرٹ امن معاہدہ نہیں چاہتے۔

امید اور ناامیدی کی ملی جلی فضا میں انا پولیس میری لینڈ میں یہ کانفرنس شروع ہورہی ہے۔

سات سال قبل کمیپ ڈیوڈ مذاکرات کی ناکامی کے بعد پورے خطے پر مایوسی چھا گئی تھی اور مرحوم یاسر عرفات کو دوسرا انتفاضہ شروع کرنے کے لیے مجبور ہونا پڑا تھا۔

اگر یہ کانفرنس بھی ناکام ہوگئی تو اس کے نتائج بہت بھیانک ہونگے۔ فلیسطینی صدر محمود عباس کی ساکھ مکمل طور پر ختم ہوجا‎ۓ گی اور فلیسطینی خطے میں جو خلا پیدا ہوگی وہ سخت گیر عناصر سے پر ہوگی۔

عراق، افغانستان، لبنان، اردن، شام، مصر اور غزہ میں سخت گیر عناصر کو زبردست فروغ حاصل ہوگا۔ اس کانفرنس کا کامیاب ہونا اس لیے بھی ضروری ہے کہ اس کا متبادل بے انتہا خطرناک ثابت ہوگا۔

امریکہ اپنے طور پر اس کانفرنس کی کامیابی کے لیے سنجیدگی سے کوشش کررہا ہے۔ جوہری تنازعہ میں ایران کو الگ تھلگ کرنے کے لیے بھی اسے عرب ممالک کی حمایت چاہیے۔ اسرائیل، فلیسطین معاہدہ اور ایک فلیسطینی ملک کاقیام امریکہ کی اس کوشش کو آسان بنادے گا۔

اس وقت فلیسطین اور اسرائیلي بات چیت کی میز پر اور پردے کے پیچھے، کئی سطحوں پر انتہائی پیچیدہ مذاکرات میں مصروف ہیں۔

اس کانفرنس کے نتائج صرف فلسطینیوں اور اسرائیل کے لیے ہی نہیں پورے مشرقی وسطی اور دنیا کی سیاست پر اثرانداز ہونگیں۔

اسی بارے میں
ہانیہ، عباس بات چیت اردن میں
26 December, 2006 | صفحۂ اول
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد