BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 16 October, 2007, 06:41 GMT 11:41 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’فلسطینی ریاست، ہماری ترجیح‘
کونڈولیزا رائس
مسئلہ فلسطین کا حل دو ریاستوں کے قیام میں ہے:کونڈولیزا رائس
امریکہ کی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس نے قاہرہ میں مصر کے صدر حسنی مبارک کے ساتھ مذاکرات کیے ہیں جن کا مقصد امریکہ کے تعاون سے اگلہ ماہ ہونے والی مشرق وسطیٰ امن کانفرنس کے لیے حمایت حاصل کرنا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ کے دورۂ مصر سے صرف ایک دن قبل مصری وزیر خارجہ احمد ابوالغیط نے تجویز دی کہ جب تک کانفرنس میں بحث کے لیے اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان کسی مسودے پر اتفاق نہیں ہو جاتا کانفرنس کو مؤخر کر دینا چاہیئے۔

اس سے قبل پیر کو کونڈولیزا رائس نے غرب اردن میں فلسطینی صدر محمود عباس سے ملاقات کے بعد کہا تھا کہ امریکہ اس کانفرنس کے لیے اپنی پوری کوشش کرے گا۔

امریکہ کی وزیر خارجہ نے کہا کہ مسئلہ فلسطین کا حل دو ریاستوں کے قیام میں ہے اور یہ ان کی اور صدر بش کی ترجیحات میں ہے۔

دریں اثناء اسرائیل کے وزیر اعظم ایہود اولمرت نے عندیہ دیا ہے کہ وہ یروشلم میں فلسطینی علاقوں کو امن سمجھوتے کے عوض خالی کرنے پر تیار ہو جائیں گے۔

ایہو اولمرت نے اسرائیلی پارلیمان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سن انیس سو سرسٹھ کی جنگ کے بعد مشرقی یروشلم کے فلسطینی علاقوں کو اسرائیل میں شامل کرنے کے حوالے سے جائز سوالات اٹھائے جا سکتے ہیں۔

کونڈولیزرائس اسرائیل کے وزیراعظم سے ملاقات کر چکی ہیں

فلسطینی عوام مشرقی یروشلم کو مجوزہ فلسطینی ریاست کا دارالحکومت بنانا چاہتے اور اسرائیل اور فلسطین کے تنازعے میں یہ نکتہ بنیادی اور انتہائی حساس نوعیت کا حامل ہے۔

غرب اردن میں فلسطینی صدر محمود عباس سے ملاقات کے بعد ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں کونڈولیزا رائس نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ فلسطینیوں کی علیحدہ ریاست قائم کردی جائے۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ سمجھتا ہے کہ فلسطینی ریاست کا قیام صرف فلسطین اور اسرائیل کے لیے نہیں ہے بلکہ مشرق وسطی میں قیام امن اور خطے میں امریکی مفادات کے تحفظ کے لیے بھی بہت ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ صدر بش کی بقیہ مدتِ صدارت میں اس مسئلہ کے حل کو ترجیح دی جا رہی ہے بلکہ وہ بھی اپنا پورا زور اس پر صرف کرنے کے لیے تیار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وہ چاہتی ہیں امریکی ریاست میری لینڈ کے علاقے ایناپولس میں اگلے ماہ ہونے والی امن کانفرنس میں کوئی سمجھوتہ ہو جائے جس کے ذریعہ فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے مثبت پیش رفت کی جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ انہیں میری لینڈ میں لوگوں کو مدعو کرکے تصاویریں کھنچوانے سے بہتر کام بھی ہیں۔

فلسطینیوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر کسی واضح اور دو ٹوک مسودے پر سمجھوتہ نہیں ہوتا تو وہ میری لینڈ میں ہونے والی کانفرنس میں شرکت نہیں کریں گے۔ جبکہ اسرائیل کا کہنا ہے کہ کانفرنس سے قبل کسی ایسے سمجھوتے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

گو کہ امریکی وزیر خارجہ کا اصرار ہے کہ میری لینڈ میں ہونے والی کانفرنس گزشتہ کئی سالوں میں مسئلہ فلسطین کے حل کے لیے کی جانے والی کوششوں میں سب سے اہم سنجیدہ کاوش ہے۔ رام اللہ میں بی بی سی کے نامہ نگار علیم مقبول کا کہنا ہے کہ اب بھی فریقین میں شدید اختلافات پائے جاتے ہیں۔

کونڈولیزا رائس کانفرنس سے قبل خطے کے دیگر ممالک کے رہنماؤں سے ملاقاتوں کا ارادہ رکھتی ہیں۔ ان رہنماؤں میں امن کانفرنس میں شرکت کرنے کے لیے قائل کریں گی۔

کونڈولیزا رائس کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں محمود عباس نے کہا کہ اسرائیل اور فلسطین کے مذاکرات کار ایک مسودے پر کام کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’ہم اس دستاویز پر اسرائیل کے ساتھ کام کر رہے ہیں اور یہ مسودہ بنیادی مسئال جن میں یروشلم، مجوزہ ریاست کی سرحدوں، سیکیورٹی، پانی اور دیگر دوطرفہ مسائل کے حل کی بنیاد فراہم کرے گا۔

فلسطینی چاہتے ہیں کہ امن کانفرنس سے قبل ایک دو ٹوک اور واضح سمجھویہ طے کیا جائے جس میں مسئلہ کے حل کے وقت کا تعین بھی کیا جائے۔ تاہم اسرائیل چاہتا ہے کہ ایک عمومی سمجھوتہ کر لیا جائے جس میں وقت کا تعین نہ کیا جائے۔

فریقین میں اس ضمن میں پائے جانے والے اختلافات کی وجہ سے امن کانفرنس کے انعاقد کو غیر یقینی صورت حال سے دوچار کر دیا ہے۔

ایہود اولمرت کی طرف سے سوموار کو دیئے جانے والے بیان نے جس میں انہوں نےیروشلم کے بارے میں سب سے زیادہ متنازعہ نکتے پر نرم رویہ اختیار کرنے کا عندیہ دیا تھا، ایک مرتبہ پھر امید کی کرن پیدا کر دی ہے۔

انہوں نے انیس سو سرسٹھ کی جنگ کے بعد مشرقی یروشلم کے علاقوں کو شہر کی حدود میں شامل کرنے کے حوالے سے سوالات اٹھائے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد