امریکی اتحادیوں کے لیے اسلحہ ڈیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک امریکی وفد مشرق وسطیٰ میں امریکہ کے اتحادی ممالک کے ساتھ ہتھیاروں کے ایک بڑے سودے کے حوالے سے بات چیت کے لیے مصر پہنچ رہا ہے۔ اس وفد میں امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس اور وزیر دفاع رابرٹ گیٹس شامل ہیں جو شرم الشیخ میں عرب حکمرانوں سے ملاقات کریں گے۔ کونڈولیزا رائس اور وزیر دفاع رابرٹ گیٹس پہلی مرتبہ ایک ساتھ خطے کا دورہ کر رہے ہیں۔ اس ڈیل سے زیادہ فائدہ اسرائیل، سعودی عرب اور مصر کو پہنچے گا اور امریکی وزیرِ خارجہ کونڈولیزا رائس کا کہنا ہے کہ علاقے میں ایران، شام اور حزب اللہ جیسے گروہوں کی موجودگی میں اپنے اتحادیوں کو مضبوط کرنے کے لیے یہ ڈیل ضروری ہے جبکہ ایران کا کہنا ہے کہ اسلحہ کی اس ڈیل سے مشرق وسطیٰ میں خوف کی شدت میں اضافہ ہوگا۔ سفر کے دوران آئرلینڈ کے شہر شینان میں قیام کے موقع پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کونڈولیزا رائس نے کہا کہ ’خطے میں ایران وہ واحد ملک ہے جو مشرق وسطیٰ میں امریکی مفادات اور جس طرح کا مشرق وسطیٰ ہم دیکھنا چاہتے ہیں، ان دونوں باتوں کو چیلنج کرتا ہے‘۔ رابرٹ گیٹس نےصحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ’ امریکی حکام تمام ممالک کو یہ یقین دہانی کروانا چاہتے ہیں کہ امریکی صدر بش کی عراق میں جو پالیسیاں ہیں اس میں پہلے بھی خطے میں استحکام اور سکیورٹی کو اہمیت دی گئی ہے اور آئندہ بھی اس بات کا خیال رکھا جائے گا‘۔ دوسری جانب ایران کا یہ کہنا ہے کہ اسلحہ کی یہ امداد خطے کو غیر مستحکم کرنے کی امریکی کوشش ہے۔ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان محمد علی حسینی کا کہنا ہے کہ ’امریکہ کی ہمیشہ یہ خاص پالیسی رہی ہے کہ خطے میں خوف پھیلایا جائے اور مشرق وسطٰی کے ممالک کے درمیان قائم روابط کو نقصان پہنچایا جائے‘۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ سعودی عرب کو سیٹلائٹ کی مدد سے نشانہ لگانے والے بموں کی فروخت جو کہ کسی بھی عرب ملک کے ساتھ اپنی نوعیت کی پہلی ڈیل ہے، اس سعودی امریکی ڈیل کا حصہ ہے۔ امید کی جا رہی ہے کہ اپنے اس دورے کے دوران کونڈولیزا رائس اور رابرٹ گیٹس سعودی بادشاہ پر اس بات کے لیے زور دیں گے کہ وہ عراقی وزیراعظم نور المالکی کی حکومت کی حمایت میں مزید اقدامات کریں۔ ہتھیاروں کی اس ڈیل کو کانگریس کی منظوری درکار ہے اور اسے مخالفت کا سامنا ہے۔ نیو یارک سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹک پارٹی کے دو اراکین انتھونی وینر اور جیرالڈ ناڈلر کا کہنا ہے کہ وہ ایک ایسا قانون متعارف کروائیں گے جس سے سعودی عرب کو ہتھیاروں کی فراہمی روکی جا سکے۔ |
اسی بارے میں رائس، عباس اوراولمرت ملاقاتیں18 February, 2007 | آس پاس مشرقِ وسطیٰ: آج سہ فریقی مذاکرات19 February, 2007 | آس پاس مذاکرات جاری رہیں گے: رائس19 February, 2007 | آس پاس امریکہ، ایران اور شام سے بات پر تیار27 February, 2007 | آس پاس میزائل نظام نصب کریں گے: رائس15 May, 2007 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||