ایٹمی سمجھوتہ اور عملی مسائل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ اور بھارت کے درمیان مجوزہ ایٹمی معاہدہ بعض اختلافی نکات کی وجہ سے تعطل کا شکار ہوتا نظر آ رہا ہے۔ امریکی کانگریس میں ڈیموکریٹس اور ریپبلیکنز کی بھاری اکثریت نومبر دو ہزار چھ میں بھارت کے ساتھ ایٹمی تجارت کے آغاز کے لیے امریکی قوانین میں ترمیم منظور کر چکی ہے۔ لیکن مجوزہ سمجھوتے کو عمل میں لانے کے لیے کانگریس نے کچھ ایسی شرائط رکھی ہیں جن پر بھارت میں خاصی نکتہ چینی سامنے آئی ہے۔ اس ہفتے واشنگٹن کے دورے پر آئے بھارتی سیکرٹری خارجہ شیو شنکر مینن نے ایٹمی سمجھوتے کے اختلافی نکات پر امریکی نائب وزیرِ خاجہ نکولس برنس کے ساتھ تفصیلی مذاکرات کیے۔ کئی گھنٹے جاری رہنے والی ملاقات کے بعد دونوں اہلکاروں نے اس تاثر کی نفی کی کہ مجوزہ سمجھوتے پر بات چیت آگے بڑھانے میں دونوں ممالک کو مشکلات پیش آرہی ہیں۔ اپنے دورہ واشنگٹن کے آخری روز بھارتی سفارت خانے میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے بھارتی سیکرٹری خارجہ کا کہنا تھا کہ امریکہ اور بھارت کے درمیان ایٹمی معاہدے کے وسیع اصولوں پر مکمل ہم آہنگی ہے۔ تاہم انہوں نے ایٹمی سمجھوتے کے ان نکات پر روشنی ڈالنے سے انکار کیا، جن پر دونوں ممالک کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ انہوں نے صرف یہ کہنے پر اکتفا کیا کہ دونوں جانب کے مذاکرات کار سمجھوتے کی قانونی باریکیوں پر بات چیت جاری رکھے ہوئے ہیں۔
بی بی سی اردو کے اس سوال پر کہ امریکہ اور بھارت کے درمیان اس اہم سمجھوتے کے پایۂ تکمیل تک پہنچنے کے امکانات کب تک ہیں، شیو شنکر مینن کا کہنا تھا کہ اگرچہ اس بارے میں ابھی کچھ نہیں کہا جا سکتا لیکن ہر ایک کی خواہش اور کوشش یہی ہے کہ تمام معاملات جلد طے پا جائیں۔ امریکی کی طرف سے نائب وزیرِ خارجہ نکولس برنس اس سمجھوتے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ڈیڑھ برس سے سرگرم عمل ہیں اور اسی سلسلے میں بھارتی حکام کے ساتھ مذاکرات کے لیے متعدد بار دلی کے چکر لگا چکے ہیں۔ واشنگٹن میں بھارتی سیکرٹری خارجہ سے مذاکرات کے بعد انہوں نے تسلیم کیا کہ بعض معاملات پر دونوں ممالک کا اپنا اپنا موقف ہے۔ تاہم انہوں نے امید ظاہر کی کہ دونوں فریق ایٹمی سمجھوتے کو خوش اسلوبی سے پایہء تکمیل تک پہنچانے میں کامیاب ہوں گے۔ نکولس برنس آئندہ چند ہفتوں میں ایک بار پھر بھارت کے دورے پر روانہ ہونے والے ہیں، جہاں وہ سمجھوتے میں شامل ’اختلافی امور‘ حل کرنے کی کوشش کریں گے۔ بھارت میں مجوزہ سمجھوتے پر کی جانے والی نکتہ چینی کو مد نظر رکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ رکاوٹ کا باعث بننے والے نقاط یہ ہیں:
امریکی قانون کے تحت سمجھوتے پر دستخط کرنے کے بعد بھارت پر پابندی ہوگی کہ وہ آئندہ ایٹمی تجربے نہیں کرے گا۔ بھارت نے اگرچہ پہلے ہی اپنے طور پر مزید ایٹمی تجربے نہ کرنے کا اعلان کر رکھا ہے لیکن امریکہ کی طرف سے اس قسم کی شرط کو بھارت میں ملکی خود مختاری کے خلاف تصور کیا جا رہا ہے۔ اسی طرح سمجھوتے کے مطابق بھارت پر پابندی ہے کہ وہ بجلی کی پیداوار میں استعمال ہونے والا ایٹمی ایندھن ری پروسس نہیں کر ے گا۔ امریکہ یہ بات یقینی بنانا چاہتا ہے کہ بھارت اس سمجھوتے کی آڑ میں اپنے ایٹمی ہتھیاروں کے پروگرام کو فروغ نہ دے۔ لیکن بھارت میں مجوزہ معاہدے کی اس شق پر بھی سخت اعتراضات کیے جا رہے ہیں۔ ادھر بھارت یہ چاہتا ہے کہ امریکہ ایٹمی بجلی گھروں کے لیے اس وقت تک ایندھن مہیا کرنے کی ضمانت دے جب تک اس کی ضرورت ہو گی۔ |
اسی بارے میں امریکہ بھارت جوہری معاہدہ 19 December, 2006 | آس پاس انڈیا امریکہ ڈیل کو قانونی تحفظ08 December, 2006 | آس پاس بھارت سےجوہری معاہدے کی منظوری09 December, 2006 | آس پاس جوہری حمایت پر انڈیا شادمان18 November, 2006 | آس پاس انڈیا سے جوہری معاہدے کی توثیق17 November, 2006 | آس پاس ’جوہری معاہدہ: تاخیر نہ کی جائے‘23 June, 2006 | آس پاس انڈیا امریکہ جوہری معاہدے کادفاع05 April, 2006 | آس پاس زبردست مظاہرے: بش دلی میں01 March, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||