بھارت سےجوہری معاہدے کی منظوری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی ایوانِ نمائندگان نے بھارت کو غیر دفاعی ضروریات کے لیے تیس سال بعد جوہری ایندھن اور ٹیکنالوجی کی فراہمی کے قانون کی منظوری دے دی ہے۔ امریکہ اور بھارت کے درمیان جوہری شعبے میں تعاون کا معاہدہ چند ماہ قبل امریکی صدر جارج بش کے بھارت کے دورے کے دوران طے پایا تھا۔ بھارت کو جوہری ایندھن اور ٹیکنالوجی کی فراہمی کے اس قانون پر ابھی امریکی سینیٹ سے منظوری حاصل کی جانے ہے۔ ایوان نمائندگان سے اس کی منظوری کے فوری بعد نئی دہلی سے حکومتی ردعمل میں اسکا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے دونوں ملکوں کے تعلقات میں تاریخی لمحہ قرار دیا گیا۔ امریکہ اور بھارت سرد جنگ کے دنوں میں ایک دوسرے کے حریف تصور کیئے جاتے تھے لیکن سرد جنگ کے خاتمے کے بعد یہ دونوں ملک اقتصادی، سیاسی اور دفاعی شعبوں میں ایک دوسرے کے حلیف کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ نئی دہلی سے بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ حکومتی حلقے اس معاہدے کی منظوری کو ایک طرح سے بھارت کا عالمی سطح پر ایٹمی طاقت کے طور پر اعتراف کیئے جانا تصور کرتے ہیں۔ تاہم امریکہ اور امریکہ سے باہر دونوں ملکوں کے درمیان اس معاہدے کے ناقدین بھی موجود ہیں جن کا خیال ہے کہ اس معاہدے کے بعد امریکہ کے لیے ایران اور جنوبی کوریا جیسے ملکوں کے جوہری پروگراموں کو روکنا مشکل ہو جائے گا۔ | اسی بارے میں انڈیا امریکہ ڈیل کو قانونی تحفظ08 December, 2006 | آس پاس جوہری معاہدہ: برنس دلی میں07 December, 2006 | انڈیا جوہری پروگرام آزاد ہے: منموہن سنگھ18 August, 2006 | انڈیا جوہری معاہدے پر صلاح و مشورہ16 August, 2006 | انڈیا جوہری معاہدہ پینل سے منظور28 June, 2006 | انڈیا انڈیا،امریکہ جوہری معاہدے پر غور27 June, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||