انڈیا امریکہ ڈیل کو قانونی تحفظ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی کانگریس کے مذاکراتکار ایک قانون بنانے پر متفق ہوگئے ہیں جس کے تحت امریکہ بھارت کو غیر دفاعی مقاصد کے لیے جوہری ایندھن برآمد کر سکے گا۔ مذکورہ بل کو قانون بنانے کے لیے کانگریس کے دونوں ایوانوں سے اس کی منظوری ضروری ہے۔ ایوان نمائندگان اس بل پر جمعہ کو غور کرے گا۔ امریکہ اور بھارت کے دمیان ہونے والی جوہری ڈیل کے تحت بھارت کو امریکی جوہری ٹیکنالوجی حاصل ہوگی اور اس کے بدلے میں امریکی ماہرین کو اجازت ہوگی کہ وہ بھارت کے غیر دفاعی ایندھن بنانے والے ری ایکٹروں کا معانہ کر سکیں۔ کچھ لوگ اس کو ایک تاریخی معاہدہ قرار دیتے ہیں لیکن ناقدین کا خیال ہے کہ اس سے جوہری عدم پھیلاؤ کی کوششوں کو نقصان پہنچے گا۔ قطع نظر ان تبصروں کے، ابھی تک امریکہ بھارت ڈیل کی تفصیلات منظر عام پر نہیں آئی ہیں۔
نامہ نگار کے مطابق وہ قانون ساز جو نئے بل کے حق میں ہیں اور جنہیں وائٹ ہاؤس کی حمایت حاصل ہے، پر اعتماد ہیں کہ نیا ’مصالحانہ بل‘ بھارتی حکومت کے لیے قابل قبول ہوگا۔ ادھر بھارت کے دورے پر گئے ہوئے امریکی دفتر خارجہ کے سینیئر اہلکار نکولس برنز نے کہا ہے کہ انہیں توقع ہے کہ بل نہایت کامیاب ہوگا اور اس میں تقریباً وہ سب کچھ شامل ہوگا جس پر دونوں ممالک کے درمیان ڈیل ہوتے وقت اتفاق ہوا تھا۔ دلی سے بی بی سی کے نامہ نگار سنجوے مجمدر کے مطابق اس معاہدے کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ خود ہندوستان کے وزیر اعظم منموہن سنگھ نے اس معاہدے کی منظوری کے لیے آخری لمحات میں ذاتی طور پر کئی امریکی ارکان کانگریس سے حمایت کے لیے رابطہ قائم کیا تھا ۔ ہمارے نام نگار کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم منموہن سنگھ کی کوششوں کا بظاہر اچھا نتیجہ نکلا ہے اورمعاہدے کے حتمی دستاویز میں ہندوستان کی تشویش کا خیال رکھا گیا ہے ، وہ شق بھی نہیں شامل کی گئی ہے جس میں ہندوستان سے ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں سخت موقف اختیار کرنے کے لیے کہا گیا تھا۔ ہندوستان کا خیال ہے کہ ہند امریکہ جوہری معاہدہ بالواسطہ طور پر اسے ایک ایسی جوہری طاقت کے طور پر قبول کرنے کے مترادف ہے جو جوہری معاملات میں ذمے داری کے ساتھ پیش آتا ہے ۔ مجوزہ ڈیل سے بھارت کے ساتھ جوہری تعاون کے معاملہ پر امریکہ کی پالسیی یکسر بدل جائے گی کیونکہ امریکہ انڈیا کے ساتھ جوہری تعاون سے یہ کہہ کر انکار کرتا رہا ہے کہ اس نے جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے پر دستخط نہیں کیے ہیں اور وہ دو مرتبہ جوہری ہتھیاروں کے ٹسیٹ بھی کر چکا ہے۔ بھارت کے ساتھ جوہری تعاون کے معاہدے کو حتمی شکل صدر جارج بش نے اپنے اس سال مارچ کے تایخی دورے میں دی تھی جس کے بعد جون میں امریکی سینٹ اور ایوان نمائندگان کی کمیٹی نے بھی اس کی حمایت کر دی تھی۔ ڈیل کے تحت امریکہ کو بھارت کے توانائی پیدا کرنے والے ری ایکٹرز تک رسائی ہوگی لیکن جوہری ہتھیاروں کے لیے ایندھن بنانے والے ریئکٹرز امریکی رسائی سے باہر ہوں گے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ڈیل سے بھارت کے جوہری ہتھیاروں کے ذخیرے کو تقویت ملے گی اور اس سے ایران جیسے ممالک کو غلط پیغام ملے گا جن کی جوہری خواہشات کی امریکی مخالفت کرتا ہے۔ انڈیا واضح کر چکا ہے کہ حتمی معاہدے میں اس پر یہ شرط بالکل نہیں ہونی چاہیے کہ وہ ایران کے بارے میں امریکی پالیسی کی حمایت کرے اور نہ ہی یہ کہے کہ ایران کو اپنا جوہری مواد تیار کرنے سے روکا جائے گا۔ اس معاہدے کو کانگریس کی منظوری ملنے کے بعد بھی کچھ رکاوٹ باقی رہے گی ۔ ہندوستان کو جوہری خریداری کے لۓ سازوسامان درآمد کرنے والے ملکوں یعنی نیوکلیر سپلائر گروپ سے معاہدے کی منظوری لینی پڑے گي۔ ہندوستان کے ساتھ جوہری تعاون کے لیے 45 ممالک اس گروپ کو اپنے قوانین میں ترمیم کرنی پڑے گی ۔ | اسی بارے میں جوہری معاہدہ: برنس دلی میں07 December, 2006 | انڈیا جوہری پروگرام آزاد ہے: منموہن سنگھ18 August, 2006 | انڈیا جوہری معاہدے پر صلاح و مشورہ16 August, 2006 | انڈیا جوہری معاہدہ پینل سے منظور28 June, 2006 | انڈیا انڈیا،امریکہ جوہری معاہدے پر غور27 June, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||