انڈیا امریکہ جوہری معاہدے کادفاع | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی وزیرِ خارجہ کونڈالیزا رائس نے امریکہ اور انڈیا کے درمیان جوہری ٹیکنالوجی کے تبادلے کے معاہدے کا دفاع کیا ہے۔ انہوں نے ’سول نیوکلیئر ٹیکنالوجی‘ کے میدان میں تعاون کے اس معاہدے پر تنقید کرنے والوں کے خدشات مسترد کر دیا کہ اس سے جوہری عدم پھیلاؤ کی کوششیں متاثر ہوں گی۔ انہوں نے امریکی کانگرس پر زور دیا ہے کہ وہ انڈیا کو ’سول نیوکلیئر ٹیکنالوجی‘ دینے کے معاہدے کی توثیق کر دے۔ انہوں نے سینیٹ کی خارجہ امور کی کمیٹی کو بتایا کہ یہ معاہدہ امریکہ، انڈیا اور عالمی دنیا کے لیئے فائدہ مند ہے۔ امریکی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ اس معاہدے سے خطے میں امریکہ کے اثر میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے بین الاقوامی جوہری ضوابط کے لحاظ سے انڈیا کی تنہائی کے خاتمے کا بھی دفاع کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ’ ماضی میں جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق پالیسیاں کارگر نہیں رہیں اور انڈیا شاید ہی این پی ٹی پر دستخط کرے لیکن اس معاہدے سے وہ این پی ٹی میں شامل ہو جائے گا‘۔ کونڈا لیزا رائس نے ان خدشات کو بھی رد کر دیا کہ اس معاہدے کی صورت میں انڈیا کے جوہری اسلحہ خانے میں اضافہ ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ’سول نیوکلیئر تعاون سے جنوبی ایشیا میں اسلحہ کی دوڑ کا اغاز نہیں ہوگا‘۔ امریکی وزیرِخارجہ نے امریکہ اور انڈیا کے درمیان سٹریٹجک تعاون کی اہمیت پر بھی زور دیا اور کہا کہ اس معاہدے کی شقوں میں تبدیلی سے ماضی کا تناؤ دوبارہ سامنے آ سکتا ہے۔ انہوں نے کمیٹی کو بتایا کہ اس معاہدے کے نتیجے میں ’انرجی سکیورٹی‘ میں اضافہ ہو گا کیونکہ انڈیا ایران پر ایندھن کے سلسلے میں انحصار کرنا کم کر دے گا۔ معاہدے پر معترض امریکی کانگرس کے متعدد اراکین کا جن میں کچھ ریپبلیکن بھی شامل ہیں، کہنا ہے کہ اس معاہدے کے تحت اگر انڈیا ایٹم بم بھی بنا لے تو بھی اسے مراعات ملتی رہیں گی جبکہ ہتھیاروں کے پھیلاؤ کے کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس معاہدے کے نتیجے میں انڈیا فاضل ایندھن کو بم بنانے میں استعمال کر سکتا ہے۔ | اسی بارے میں جوہری معاہدے کیلیئے انڈین اپیل01 April, 2006 | انڈیا رشتوں میں دراڑ آ سکتی ہے: شیام 31 March, 2006 | انڈیا ہند،روس بڑھتا ہواجوہری اشتراک 17 March, 2006 | انڈیا جوہری معاہدے کا خیر مقدم03 March, 2006 | انڈیا ہندوستان کی جوہری تنہائی کاخاتمہ02 March, 2006 | انڈیا انڈیا،امریکہ ’تاریخی‘ معاہدہ02 March, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||