انڈیا۔امریکہ جوہری معاہدے کوخطرات؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ میں ڈیموکریٹ پارٹی کی انتخابی فتح کے بعد امریکہ اور انڈیا کے درمیان جوہری معاہدے کو خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ امریکی صدر جارج بش نے ریپبلیکن پارٹی کی فتح کے بعد انڈیا کے ساتھ جوہری معاہدے کی تکمیل کو اپنی ترجیجات میں بتایا ہے۔البتہ دہلی اور واشنگٹن میں حکام کو پریشانی لاحق ہے۔ صدر جارج بش نے ریپبلیکن کی شکست کو تسلیم کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا تھا کہ انڈیا کے ساتھ تاریخی جوہری معاہدے کی تکمیل ہو جائے گی۔ امریکی ایوان نمائندگان پہلے ہی اس معاہدے کی توثیق کر چکا ہے۔ بش انتظامیہ اور بھارتی حکام کو امید ہے کہ پرانی سینٹ جس پر ریپبلیکن پارٹی کا کنٹرول ہے، اپنے آخری اجلاس میں جوہری معاہدے کی توثیق کر دے گی۔ ریپبلیکن اکثریت والے سینٹ کا آخری اجلاس تیرہ نومبر سے شروع ہو رہا ہے۔ انڈیا میں امریکی سفیر ڈیوڈ ملفورڈ نے اخبار نویسوں کو بتایا ہے کہ موجودہ سینٹ کے آخری اجلاس میں انڈیا۔امریکہ جوہری معاہدے کی توثیق کے امکانات روشن ہیں۔ بھارت کو امید ہے کہ بھارتی نژاد امریکی اپنے اثرورسوخ سے اس جوہری معاہدے کی توثیق کرانےمیں کامیاب ہو جائیں گے۔ واشنگٹن میں باخبر حلقوں کا کہنا ہے کہ بعض ڈیموکریٹ سینٹر بھارت کے ساتھ جوہری معاہدے سے خفا ہیں اور ان کو شکایت ہے کہ ریپبلیکن پارٹی نے معاہدہ کرتے وقت ان کو اعتماد میں نہیں لیا تھا۔اگر موجودہ سینٹ اپنے آخری اجلاس میں انڈیا کے ساتھ جوہری معاہدے کی توثیق نہ کر سکی تو اس معاہدے کا نئے سرے سے جائزہ لیا جائے گا۔ جانز ہاپکنز یونیورسٹی میں جنوبی ایشیائی امور کے ماہر والٹر اینڈرسن کا کہنا ہے کہ وہ یقین کے ساتھ نہیں کہہ سکتے کہ موجودہ سینٹ اپنے آخری اجلاس میں اتنے پیچدہ معاہدے کی توثیق کر پائے گی۔ والٹر اینڈرسن کا کہنا ہے کہ 2008 میں ہونے والے صدارتی انتخابات کے لیے تیاریاں ابھی سے شروع ہو چکی ہیں اور دونوں جماعتوں، یعنی ڈیموکریٹ اور ریپبلیکن، کو بھارتی نژاد وٹروں اور ان کی رقم کی ضرورت ہے۔ بھارتی نژاد امریکی سودیش چترجی کا خیال ہےکہ اس معاہدے کی تکمیل اس سال سے پہلے ہو جائے گی۔ سودیش چترجی کا کہنا ہے کہ انڈیا کے ساتھ دوستی ڈیموکریٹ اور ریپبلیکن دونوں کی ترجیجات میں شامل ہے۔ سٹمسن یونیورسٹی کے پروفیسر مائیکل کریپن کا خیال ہے کہ امریکہ۔انڈیا کے جوہری معاہدے کی مخالفت کسی کے حق میں نہیں ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے ڈیموکریٹ جوہری پھیلاؤ سے متعلق زیادہ سخت پالیسی کے حامی ہیں اور ان میں کئی اراکان نے انڈیا کے ساتھ جوہری معاہدے کی مخالفت کی ہے۔ پروفیسر کریپن سمیت کئی دوسرے لوگوں کا خیال ہے کہ امریکہ نے انڈیا کے ساتھ جوہری معاہدہ کرکے اس جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے پر عمل نہ کرنے کا انعام دیا ہے۔ پروفیسر کریپن کا کہنا ہےکہ امریکہ انڈیا کے ساتھ جوہری معاہدہ کر کے ایران اور کوریا کو جوہری ٹیکنالوجی کے حصول سے روکنے کی کیسے تلقیق کر سکتا ہے۔ البتہ بش انتظامیہ کا خیال ہے کہ انڈیا کا ایران اور شمالی کوریا سے موازنہ کرنا مناسب نہیں کیونکہ انڈیا کبھی بھی جوہری ٹیکنالوجی کے پھیلاؤ کی کوششوں میں ملوث نہیں رہا ہے۔ اس معاہدے کے مخالفین ایوان نمائندگان کے اراکان اور سینٹروں کو بتاتے رہے ہیں کہ فرانسیسی اور روسی کمپنیاں بھارت میں جوہری معاہدے حاصل کر لیں گیں حالانکہ اس معاہدے کی راہ میں ساری قانونی مشکلات امریکہ نے دور کی ہیں۔ بعض ڈیموکریٹ کا خیال ہے کہ جوہری معاہدے کی توثیق سے پہلے انڈیا سے ضمانت لی جائے کہ اپنے جوہری تنصیبات کو امریکی نگرانی میں چلائے گا اور جوہری بجلی گھروں کی تعمیر کے ٹھیکے امریکی کمپنوں کو ملیں گے۔ | اسی بارے میں ہندوستان کی جوہری تنہائی کاخاتمہ02 March, 2006 | انڈیا ہند،روس بڑھتا ہواجوہری اشتراک 17 March, 2006 | انڈیا جوہری معاہدے میں پیچیدگی18 April, 2006 | انڈیا جوہری معاہدہ پینل سے منظور28 June, 2006 | انڈیا جوہری معاہدہ: میڈیا کا رد عمل28 July, 2006 | انڈیا جوہری معاہدے پر صلاح و مشورہ16 August, 2006 | انڈیا جوہری پروگرام آزاد ہے: منموہن سنگھ18 August, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||