امریکہ بھارت جوہری معاہدہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی صدر جارج بش نے بھارت اور امریکہ کے درمیان اس جوہری معاہدے سے متعلق بل پر دستخط کر دیا ہے جس کے تحت امریکہ بھارت کو سویلین مقاصد کے لیے جوہری ایندھن فراہم کرے گا۔ امریکی کانگریس نے اس بل کو کچھ روز پہلے منظور کر لیا تھا۔ صدر بش اور بھارتی وزیر اعظم منموہن سنگھ نے اس ڈیل پر جولائی سنہ 2005 میں اتفاق کر لیا تھا۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اس معاہدے سے ایٹمی عدم پھیلاؤ کے لیے کوششوں کو نقصان پہنچے گا کیونکہ بھارت نے اب تک ’این پی ٹی‘ یعنی ایمی عدم پھیلاؤ کے معاہدے پر دستخط نہیں کیا ہے۔ لیکن صدر بش نے اس نئے قانوں کو پوری دنیا کے لیے اہم کامیابی قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس سے امریکہ بھارت کے ایٹمی عدم پھیلاؤ کی تحریک میں شمولیت کی راہ ہموار کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سے امریکہ اور بھارت کے تعلقات اور مضبوط ہونگے اور دونوں ممالک کو اس سے فائدہ پہنچے گا۔ اس معاہدے کے تحت بھارت کو امریکی سویلین ٹکنالوجی تک رسائی ہوگی اور وہ امریکہ کو اپنے سویلین جوہری مقامات کے معائنے کی اجازت دے گا۔ بھارت میں حزب اختلاف کے ایک رہنما ایل کے ایڈوانی نے اس معاہدے پر سخت تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ اس سے ’بھارت امریکہ کا گاہک بن جائے گا اور اس معاہدے کا مقصد بھارت کے جوہری پروگرام کو کم کردینا ہے۔‘ اس معاہدے کے عمل میں آنے سے پہلے اس میں تین مرحلے اور ہیں جن میں کانگریس کی مختلف تفصیلات کی منظوری کے علاوہ عالمی جوہری ادارے اور نیوکلئیر سپلائرز گروپ کی منظوریاں شامل ہیں۔ | اسی بارے میں ’جوہری پروگرام متاثر نہیں ہوگا‘18 December, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||