مشرق وسطی کے ثالثی گروپ پرتنقید | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس مشرق وسطی میں قیام امن کے سلسلے میں امریکی تعاون سے اگلے ماہ ہونے والی امن کانفرنس سے قبل اتوار کو فلسطین کے صدر محمود عباس سے ملاقات کر رہی ہیں۔ فلسطین کے صدر سے ملاقات سے پہلے امریکی وزیر خارجہ اسرائیل کے وزیر اعظم ایہود اولمرت سے ملاقات کر چکی ہیں۔ ان ملاقاتوں میں وہ اگلے ماہ ہونے والی کانفرنس کے لیے ایک مشترکہ دستاویز کی تیاری میں فلسطین اور اسرائیل کے رہنماؤں کی مدد کر رہی ہیں۔ دریں اثناء اقوامِ متحدہ کے ایک اعلیٰ اہلکار نے کہا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ میں قیام امن کے لیے امریکہ، روس، یورپی یونین اور اقوام متحدہ پر مشتمل چار رکنی ثالثی گروہ فلسطین میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے اقدامات نہیں کرتا تو وہ اقوام متحدہ کو اس گروہ سے علیحدگی اختیار کرنے کا مشورہ دیں گے۔ فلسطین کے لیے اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے سفیر جان ڈوگارڈ نے بی بی سی کو بتایا کہ چار رکنی ثالثی گروہ فلسطینیوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہو گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ثالثی گروہ کے ایک رکن کی حیثیت سے اقوام متحدہ بھی اس ضمن میں کوئی قابل ذکر کردار ادا نہیں کر سکا ہے۔ اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی کی حیثیت سے وہ غرب اردن اور غزہ میں گزشتہ سات سال سے مختلف اوقات میں دورے کر تے رہے ہیں۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل غیر جانبدار ماہرین کو دنیا کے مختلف حصوں میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر رپورٹس تیار کرنے کے لیےتعینات کرتا ہے۔ ان کی حیثیت محض مشیر کی ہوتی ہے تاہم یہ افراد اقوامِ متحدہ کی پالیسی پر اثر انداز ہونے کی قدرت نہیں رکھتے۔ بی بی سی کے ساتھ ایک انٹرویو میں مسٹر جان ڈوگارڈ کا کہنا تھا کہ ’میں جب بھی فلسطین کا دورہ کرتا ہوں تو وہاں مجھے صورت حال پہلے سے کہیں زیادہ بدتر نظر آتی ہے‘۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ’حالیہ دورے کے دوران مجھے فلسطینیوں میں بے یارومددگار ہونے کا احساس شدت سے نظر آیا‘۔ انہوں نے اس تاثر کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور خاص طور پر اسرائیل کی فلسطین کی آزادی کی تحریک پر پابندیوں سے منسوب کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’غرب اردن کے درمیانی حصے میں کچھ چیک پوسٹوں کے قیام کا مقصد محض فلسطینیوں کی زندگیوں کو مشکل سے مشکل تر بنانا ہے۔‘ جنوبی افریقہ سے تعلق رکھنے والے پروفیسر جان ڈو گارڈ کا کہنا تھا کہ امریکہ کے انتہائی اثر کی وجہ سے مشرقی وسطیٰ کے امور سے متعلق چار رکنی ثالثی گروپ کا رد عمل کمزور ہے۔ان کا کہنا تھا کہ مذکورہ گروپ انسانی حقوق سے متعلق معاملات کی مناسب نگرانی اور فلسطینی دھڑوں الفتح اور حماس کے درمیان حالیہ اختلاف کو حل کرنے میں ناکام ہو گیا ہے۔ اس سال جون میں شدت پسند مسلح گروہ حماس نے غزہ کی پٹی کا انتظام الفتح کے ہاتھ سے چھین لیا تھا۔ الفتح کی سربراہی فلسطین کے صدر محمود عباس کے پاس ہے۔ مسٹر جان ڈوگارڈ کا کہنا تھا کہ دونوں دھڑوں میں اختلاف فلسطینیوں کے حق خودارادیت کے لیے ایک خطرہ ہے اور اقوام متحدہ کو اس بارے میں ایک مصالحت کار کا کردار ادا کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’بین الاقوامی برادری کی تقریباً تمام تر حمایت الفتح پارٹی کے ساتھ ہے جبکہ اقوام متحدہ کو یہ کردار ادا نہیں کرنا چاہیے۔ان ہی وجوہات کے پیش نظر اقوام متحدہ کے لیے اس گروہ سے الگ ہونے کا یہی امکانی وقت ہے‘۔ ان کا کہنا تھا کہ اس ماہ کے آخر میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پیش کی جانے والی اپنی رپورٹ کے دوران وہ تنظیم کے سیکرٹری جنرل سے یہی درخواست کریں گے کہ اگر مذکورہ ثالثی گروہ فلسطین میں انسانی حقوق کی صورت حال کو بہتر بنانے کے لیے کوئی قدم نہیں اٹھاتا تو اقوام متحدہ اس سے الگ ہو جائے۔ |
اسی بارے میں فلسطینی بندوقوں کے سائے میں16 May, 2007 | آس پاس فلسطین اور اسرائیل کے رابطے20 June, 2007 | آس پاس محافظ کی فائرنگ، فلسطینی ہلاک10 August, 2007 | آس پاس یروشلم: فلسطین اسرائیل بات چیت09 July, 2007 | آس پاس گیارہ فلسطینی ہلاک، بیس زخمی28 September, 2007 | آس پاس اسرائیلی فائرنگ، 7 فلسطینی ہلاک25 August, 2007 | آس پاس غزہ پر اسرائیلی حملہ، تین ہلاک21 August, 2007 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||