فلسطین پر امریکہ اسرائیل مذاکرات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی صدر جارج بش اور اسرائیلی وزیرِ اعظم ایہود اولمرت نے فلسطینی صدر محمود عباس کو پرزور حمایت کی پیش کش کی ہے۔ محمود عباس کو ’تمام فلسطینی عوام کا صدر‘ قرار دیتے ہوئے دونوں رہنماؤں نے ان کی تشکیل کردہ ایمرجنسی حکومت کو اپنی مکمل حمایت کا یقین دلایا ہے جس میں حماس کو شامل نہیں گیا۔ ایہود اولمرت کا اصرار تھا کہ وہ محمود عباس سے باقاعدہ رابطے کے لیے تیار ہیں۔ دونوں رہنما غمہ کی پٹی پر حماس کے قبضے کے بعد وائٹ ہاؤس میں مذاکرات کررہے ہیں۔ مذاکرات سے قبل حماس کے ایک ترجمان کا کہنا تھا کہ ان مذاکرات کا مقصد حماس کو تباہ کرنا ہے۔
مذاکرات سے قبل جارج بش اور ایہود اولمرت کا کہنا تھا کہ محمود عباس ’اعتدال کی بات‘ کرتے ہیں۔ جارج بش نے ایہود اولمرت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ’وہ (محمود عباس) آپ کے پڑوس کے انتہا پسندوں میں ایک دانش مندانہ آواز ہیں‘۔ ایہود اولمرت نے حماس کی ’سفاکی‘ کی مذمت کی تاہم ان کا کہنا تھا کہ وہ محمود عباس سے ہر ممکن تعاون کریں گے جس سے ان کے فلسطینی صدر سے ہفتے میں دو بار ملاقات کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔ صدر بش نے اس موقعہ پر ایک خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا پھر اعادہ کیا جس سے اسرائیلی وزیرے اعظم نے بھی اتفاق کیا۔ ان کا کہنا تھا ’ہم پرامید ہیں کہ صدر عباس اور وزیرِ اعظم سلام فیاض اتنے مستحکم ہوجائیں کہ وہ فلسطینیوں کو ایک مختلف سمت میں لے جاسکیں‘۔ تاہم اس کے بارے میں کوئی واضح بات نہیں کی گئی کہ امریکہ اور اسرائیل غزہ کی پٹی کے بارے میں کیا حکمتِ عملی اختیار کریں گے، جس پر حماس کا کنٹرول ہے۔ مذاکرت سے قبل آنے والی اطلاعات میں کہا جا رہا تھا کہ اسرائیل غزہ پر مالی پابندیاں بڑھانا چاہتا ہے تاکہ حماس کو کچھ نہ مل پائے۔ تاہم بی بی سی کو ایک ترجمان نے بتایا کہ اسرائیل ضرورت مندوں کے لیے انسانی امداد کو روکنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔
توقع کی جارہی ہے کہ ان مذاکرات میں فسطینی علاقوں میں ہونے والے تازہ ترین واقعات مرکزی حیثیت کے حامل رہیں گے، جہاں صدر محمود عباس نے ایمرجنسی کابینہ کے قیام کا اعلان کیا ہے۔ اس کابینہ میں حماس کا کوئی رکن شامل نہیں ہے۔ پیر کو امریکی وزیرِ خارجہ کونڈولیزا رائس نے فلسطینی اتھارٹی پر جاری مالی اور سفارتی پابندیاں اٹھانے کا اعلان کیا۔ انہوں نے حماس کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ حماس فلسطینی عوام پر ایک انتہا پسندانہ ایجنڈا مسلط کرنا چاہتی ہے۔ یوپی یونین نے بھی کہا ہے کہ وہ ’فلسطینی اتھارٹی سے معمول کے تعلقات فوراً بحال کررہی ہے‘۔ یونین کا کہنا ہے کہ وہ فلسطینی حکومت کے لیے براہ راست معاشی امداد بحال کرنے کے لیے طریقہِ کار کا جائزہ لے رہی ہے۔ امریکہ اور یورپی یونین نے اٹھارہ ماہ قبل منتخب ہوکر آنے والے حماس انتظامیہ پر پابندیاں عائد کررکھی تھیں۔ محمود عباس نے جمعرات کے روز غزہ کی پٹی پر حماس کے قبضے کے بعد حکومت کو برطرف کردیا تھا۔ اس دوران الفتح اور حماس کے درمیان ہونے والی خانہ جنگی سے سو سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ امریکی وزیرِ خارجہ کونڈو لیزا رائس کے مطابق ’ یہ عالمی برادری کا فرض ہے کہ وہ ان فلسطینیوں کی مدد کرے جو اپنے لیے ایک بہتر زندگی اور ایک پرامن مستقبل کی تعمیر کرنا چاہتے ہیں‘۔ انہوں نے اس موقع پر غزہ کی پٹی پر امدادی کام کرنے والی اقوامِ متحدہ کی تنظیم یو این ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی کے لیے چالیس ملین ڈالرز کی ایمرجنسی امداد کا اعلان بھی کیا۔ اس سے قبل جارج بش کے ساتھ پندرہ منٹ کے ٹیلیفون رابطے میں فلسطینی صدر محمود عباس نے کہا کہ نئے امن مذاکرات کے لیے یہی موزوں وقت ہے۔ ادھر مذاکرات سے پہلے نیویارک میں بات کرتے ہوئے ایہود اولمرت نے تاثر دیا کہ وہ اس تجویز پر بات چیت کے لیے تیار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ فلسطین کی نئی کابینہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان مستقل امن معاہدے کا راستہ ہموار کرسکتی ہے۔ ’ہم محمود عباس کے ساتھ اس سیاسی فضاء کے متعلق بات چیت کے لیے تیار ہیں جو بعد میں ہمارے اور فلسطینیوں کے درمیان کسی مستقل معاہدے کی بنیاد بن سکے۔‘
ایہود اولمرت کا کہنا تھا کہ وہ فلسطینی رہنما کے ساتھ باقاعدہ رابطے کی بحالی کے لیے تیار ہیں تاکہ ’روزمرہ کے معاملات کا حل نکالتے ہوئے بڑے مسائل کے حل کی طرف بڑھا جاسکے‘۔ اسرائیلی وزیرِ اعظم نے کہا تھا کہ مغربی پٹی میں ایک ’درست فریق‘ کے ساتھ مل کر وہ ’مزید خطرات‘ کا سامنا کرنے کے لیے بھی تیار ہیں۔ اسرائیلی وزیرِ خارجہ زیپی لیوینی نے بھی یہ تصدیق کی کہ اسرائیل کی طرف سے منجمد کردیئے گئے ٹیکس اور ریونیو کی مد میں آٹھ سو ملین ڈالرز کی رقم اب فلسطینی اتھارٹی کو منتقل کی جارہی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||