غزہ:الفتح ریلی پر فائرنگ، چھ ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
غزہ میں یاسر عرفات کی برسی کے موقع پر الفتح کی جانب سے منعقدہ ریلی میں فائرنگ سے کم از کم چھ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ عینی شاہدین کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب حماس کی سکیورٹی فورس نے ہجوم پر اس وقت فائرنگ کر دی جب الفتح کے حامیوں نے ان پر پتھراؤ کیا اور طعنہ زنی کی۔ فائرنگ سے ریلی میں شریک لوگوں میں بھگدڑ مچ گئی۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے سکیورٹی فورسز نے پہلا فائر اس وقت کیا جب ہجوم نے حماس پر الزام لگایا کہ وہ ایران کے شیعہ مسلمانوں کی حمایت کر رہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ اس واقعہ میں سو افراد زخمی ہوئے ہیں۔ جون میں حماس کی جانب سے غزہ سے الفتح کو اقتدار سے باہر کرنے کے بعد مرحوم یاسر عرفات کی پارٹی کی جانب سے یہ اب تک کی سب سے بڑی ریلی تھی۔ فلسطینی رہنما یاسر عرفات گیارہ نومبر 2004 میں پیرس میں انتقال کر گئے تھے اور ان کی وفات کے بعد سے فلسطینی سیاست سیکولر تنظیم الفتح اور شدت پسند گروپ حماس کے درمیان تشدد کا شکار ہو کر رہ گئی ہے۔ غزہ کے مرکز میں جمع ہونے والےالفتح کے ہزاروں حامیوں نے یاسرعرفات کی تصاویر اور پارٹی کے پیلے پرچم اٹھا رکھے تھے۔حماس کے سکیورٹی افسران کا کہنا ہے کہ انہوں نے ان مظاہرین کی جانب فائرنگ کی تھی جنہوں نے سکیورٹی کمپاؤنڈ پرفائرنگ کی تھی۔ غزہ پر قبضے کے بعد سے حماس نے حزبِ اختلاف کی ریلیوں پر پابندی لگا دی تھی اور پیر کی اس ریلی کے لیے بڑی تعداد میں فورس تعینات کی گئی تھی۔ نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ یاسر عرفات کی یاد میں ہونے والی اس تقریب کو روکنے کی کوئی بھی کوشش غزہ میں ناراضگی کا سبب بنتی کیونکہ مختلف دھڑوں میں آج بھی یاسر عرفات کا احترام کیا جاتا ہے۔ |
اسی بارے میں غزہ: اسرائیلی حملوں میں ہلاکتیں30 June, 2007 | آس پاس اسرائیل کی مسلح مزاحمت ترک27 July, 2007 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||