اسرائیل کی مسلح مزاحمت ترک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نئی فلسطینی انتظامیہ نے اسرائیل کے خلاف مسلح مزاحمت کے لیے سابق حماس انتظامیہ کی پالیسی ختم کر دی ہے ۔ فلسطینی انتظامیہ کے صدر محمود عباس کی نامزد کردہ نئی حکومت نے کہا ہے کہ وہ فلسطینی علاقوں پر اسرائیل کا قبضہ ختم کرنے کے لیے کام کرے گی۔ اس حکومت کا مطالبہ ہے کہ غرب اردن اور غزہ کی پٹی کو ملا کر آزاد فلسطینی ریاست قائم کی جائے جس کا صدر مقام یروشلم ہو۔ نئی فلسطینی حکومت نے فلسطینی پناہ گزینوں کے مسئلے کے منصفانہ حل کا بھی مطالبہ کیا۔ نئی انتظامیہ کی قیادت سلام فیاد کر رہے ہیں۔ حماس اس حکومت کو تسلیم نہیں کرتی۔
محمود دلان نے استعفیٰ دینے کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے نجی وجوہات کی بنا پر استعفیٰ دیا ہے ۔ دوسری طرف فلسطینی عہدہ داروں کا کہنا ہے کہ محمود دلان کو غزہ کی پٹی میں فتح پارٹی کی حماس کے ہاتھوں شکست کا ذمہ دار پانے کے بعد نکالنے پر زور دیا گیا تھا۔ اس شکست کے باعث محمود دلان پر شدید نکتہ چینی کی گئی اوران کے استعفیٰ دینے کی بھی یہی وجہ ہے۔ |
اسی بارے میں یروشلم: فلسطین اسرائیل بات چیت09 July, 2007 | آس پاس ’فلسطینی ہوتی تو خودکش بمبارہوتی‘23 January, 2004 | آس پاس فلسطینی: مہینوں بعد پوری تنخواہ05 July, 2007 | آس پاس مسلح فورس دوگنا کریں گے: حماس07 January, 2007 | آس پاس حماس مسلح لڑائی جاری رکھے: ایمن05 March, 2006 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||