فلسطینی: مہینوں بعد پوری تنخواہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیل کی جانب سےمنجمد ٹیکس فنڈز کی فراہمی کے بعد ہزاروں فلسطینی سرکاری ملازمین کو تقریباً سولہ ماہ بعداپنی پہلی پوری تنخواہ ملی۔ بینکوں اور اے ٹی ایم مشینوں پر اپنی کیش تنحواہ لینے والے فلسطینیوں کی لمبی لمبی قطاریں دیکھی گئیں۔ اسرائیلی حکام کے مطابق اتوار کو اسرائیل نے نئی ہنگامی حکومت کو پہلی قسط کے طور پر تقریباً ایک سو سترہ ملین ڈالر کی رقم دی ہے۔ایک اندازے کے مطابق مارچ دو ہزار چھ کے بعد سے ہزاروں فلسطینی افسران کو ان کی پوری تنخواہ نہیں مل رہی تھی۔ فلسطینی حکام نے اس وصولی کی تصدیق کی ہے۔ اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ آنے والے چند دن میں مزید رقم دی جائے گی۔ وزارتِ زراعت میں کام کرنے والے اکیاون سالہ جیسر صبائی کا کہنا تھا ’ایک سال کے عرصے میں پہلی مرتبہ مجھے اپنی پوری تنخواہ مل رہی ہے‘۔انہوں نے افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی یہ تمام تنخواہ ادھار کی ادا کرنےمیں چلی جائے گی۔ غزہ میں فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس کی جانب سے حماس کی حکومت برخاست کیے جانے کے بعد اسرائیل نے یہ فنڈز جاری کرنے شروع کیے ہیں۔ | اسی بارے میں منجمدٹیکس فنڈز کی فراہمی شروع01 July, 2007 | آس پاس اقتصادی پابندی ختم، تعاون بحال18 June, 2007 | آس پاس فلسطین اور اسرائیل کے رابطے20 June, 2007 | آس پاس ’حماس۔فری‘ کابینہ اسرائیل کو منظور17 June, 2007 | آس پاس فلسطینی معاشرہ انتشار کے قریب؟15 June, 2007 | آس پاس غزہ حماس کے مکمل کنٹرول میں15 June, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||