’حماس۔فری‘ کابینہ اسرائیل کو منظور | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیل کے وزیرِ اعظم ایہود اولمرت نے کہا ہے کہ فلسطین میں حماس کے بغیر نئی حکومت بننے سے امن کے فروغ کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل اس طرح کی کابینہ کو ’پارٹنر‘ سمجھے گا اور حماس کے باہر رہنے سے مواقع بڑھ گئے ہیں۔ سنیچر کو مذاکرات کے لیے امریکہ جانے سے قبل انہوں نے کہا کہ حالیہ تبدیلیوں نے صورتِ حال واضح کر دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئی کابینہ نے وہ موقع فراہم کیا ہے جو کئی عرصے سے موجود نہیں تھا۔
انہوں نے کہا کہ جو فلسطینی حکومت حماس کی حکومت نہیں ہے وہ پارٹنر ہے اور ہم اس سے تعاون کریں گے۔ اس سے قبل یروشلم میں امریکی کونسل جنرل جیکب ویلس نے کہا تھا کہ جب حماس کے بغیر نئی ہنگامی حکومت حلف اٹھائے گی تو وہ فلسطین کی امداد پر پندرہ ماہ سے عائد تمام پابندیاں اٹھا لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ نئی فلسطینی حکومت کو مکمل امریکی حمایت حاصل ہوگی اور اس کے ساتھ بات کرنے میں کسی طرح کی رکاوٹ نہیں ہے۔ فلسطینی انتخابات میں حماس کی فتح کے بعد سے امریکہ اور یورپی یونین نے فلسطین پر پابندیاں عائد کر دی تھیں۔ |
اسی بارے میں فلسطینی پارلیمان پر الفتح کا حملہ16 June, 2007 | آس پاس فلسطینی تشدد کی پرزور مذمت15 June, 2007 | آس پاس غزہ حماس کے مکمل کنٹرول میں15 June, 2007 | آس پاس حماس حکومت برطرف15 June, 2007 | آس پاس الفتح علاقہ خالی کر دے: حماس12 June, 2007 | آس پاس ہنیہ کا گھر ایک مرتبہ پھر نشانے پر12 June, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||