BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 15 June, 2007, 22:32 GMT 03:32 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فلسطینی تشدد کی پرزور مذمت
غزہ میں تشدد
غزہ میں ایک ہفتے کے تشدد میں سو سے زیادہ فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں
عرب ممالک کے وزرائے خارجہ نے قاہرہ میں ہونے والے ایک ہنگامی اجلاس میں غزہ میں ہونے والے تشدد کی اسے مجرمانہ وارداتیں کہتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔

ایک بیان میں وزرائے خارجہ نے فلسطینی گروہوں سے کہا ہے کہ وہ فوراً لڑائی بند کر دیں۔

انہوں نے سب فریقوں پر زور دیا کہ وہ صدر محمود عباس کے اختیارات کااحترام کریں۔

وزرائے خارجہ نے کہا کہ وہ غزہ میں تشدد کے حقائق جاننے کے لیے ایک مشن وہاں بھیجیں گے۔ انہں نے سودی عرب اور مصر کی طرف سے دونوں گروہوں میں ثالثی کرانے کی کوششوں کی بھی حمایت کی۔

اس سے قبل حماس کے ایک جلا وطن سیاسی رہنما نے کہا ہے کہ ان کی تحریک فلسطین کے صدر محمود عباس کے ساتھ کام کرتی رہے گی۔

سلام فیاض
امریکہ سے معاشیات میں پی ایچ ڈی کرنے والے سلام فیاض ورلڈ بینک میں ملازم بھی رہے ہیں

شام میں مقیم خالد مشال نے حماس کے جنگجوؤں کے غزہ میں کنٹرول کے ایک روز بعد کہا کہ عباس ’جائز‘ صدر ہیں۔

تاہم حماس نے صدر محمود عباس کی طرف سے وزیرِ اعظم اسماعیل ہنیہ کو برخاست کرنے کے عمل کو غیر قانونی قرار دیا ہے۔

دمشق میں بات کرتے ہوئے میشال نے کہا کہ ’صدر عباس کے پاس ایک قانونی جواز ہے۔۔۔ وہ منتخب شدہ صدر ہیں اور ہم قومی مفاد میں ان کے ساتھ تعاون کرتے رہیں گے۔‘

انہوں نے کہا کہ فلسطینی بحران کے لیے بین الاقوامی برادری خاص طور پر ذمہ دار ہے ہر چند کے ہم فلسطینی بھی اس کے لیے خود کو معاف نہیں کر سکتے۔

انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی برادری فلسطینیوں کے حقوق کو سمجھنے سے قاصر رہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بین الاقوامی برادری نے جمہوریت کی زبان کا احترام نہیں کیا۔ ’بین الاقوامی برادری نہ مزاحمت کی زبان سمجھتی ہے اور نہ یہ اصول پہچانتی ہے کہ عوام کو اپنی حفاظت کے لیے خود کو آزاد کرانے کا حق ہے۔ بلکہ یہ برادری جمہوریت تو کجا قومی مفاہمت اور اتحاد کی حکومت کا احترام کرنے کے لیے تیار نہیں۔‘

اس سے قبل فلسطینی صدر محمود عباس نے حماس کی مخلوط حکومت برخاست کرنے کے ایک روز بعد سابق وزیر خزانہ سلام فیاض کو نیا وزیر اعظم نامزد کیا تھا۔

میں اب بھی وزیرِ اعظم ہوں: اسماعیل ہنیہ

سلام فیاض پہلے عالمی بینک میں کام کرتے رہے ہیں اور بین الاقوامی طور پر عزت کی نگاہ سے جانے جاتے ہیں۔

حالیہ مہینوں میں غیر ملکی حکومتیں حماس کو بائی پاس کر کے براہ راست ان کے ساتھ معاہدے کرتی رہی ہیں۔

دریں اثناء امریکہ، یورپی یونین، روس اور اقوام متحدہ نے محمود عباس کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔

صدر محمود عباس نے سلام فیاض کو ہدایت کی ہے کہ وہ وزارتِ عظمیٰ کا چارج لے کر ایمرجنسی حکومت کا قیام عمل میں لائیں۔

فلسطینی اتھارٹی کے صدر کی طرف سے یہ اعلان اس وقت کیا گیا ہے جب چھ روز کی خونریز جھڑپوں کے بعد حماس نے محمود عباس کی حمایتی تنظیم الفتح کو شکست دے کر غزہ پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ کہا جارہا ہے کہ غزہ شہر میں واقع صدارتی کمپاؤنڈ پر بھی حماس نے قبضہ کر لیا ہے۔ حماس اور فتح کے درمیان حالیہ جھڑپوں میں لگ بھگ سو افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

دوسری طرف اسماعیل ہنیہ نے کہا ہے کہ وہ اب بھی وزیرِاعظم ہیں جبکہ حماس نے کہا ہے کہ صدر عباس نے غیر قانونی طور پر حکومت کو برخاست کیا ہے۔

جمعرات کی رات غزہ کے زیادہ تر حصوں میں حماس کے سبز پرچم لہرا دیے گئے تھے اور حماس کے حامی شہر کی گلیوں میں فتح کا جشن منا رہے تھے۔ اس سے قبل حماس کے جنگجو صدارتی کمپاؤنڈ اور سکیورٹی فورس کے ہیڈکوارٹر سمیت الفتح کی دیگر بڑی عمارتوں پر قبضہ کر چکے تھے۔ لوگوں نے دیکھا کہ الفتح کے کارکنوں کو غیر مسلح کرنے کے بعد ہانک کر لے جایا جا رہا تھا۔

یروشلم میں بی بی سی کے نامہ نگار میتھیو پرائس کا کہنا ہے کہ حماس کی حکومت کی برخاستگی کے بعد غرب اردن اور غزہ کی پٹی عملی طور پر ایک دوسرے سے الگ ہو جائیں گے۔ غزہ کے معاملات حماس کے ہاتھ میں ہوں گے جبکہ غرب اردن الفتح کے کنٹرول میں آ جائے گا۔

غزہ میں لڑائی
حماس نے غزہ کے جنوب میں واقع الفتح کا صدر دفتر تباہ کر دیا

لیکن اسماعیل ہنیہ نے اس خیال کو رد کرتے ہوئے کہا کہ ’ غزہ کی پٹی وطن کا وہ حصہ ہے جسے تقسیم نہیں کیا جا سکتا اور یہاں کے رہائشی فلسطینی عوام کا ضروری جزو ہیں۔‘ اس کے علاوہ ان کا کہنا تھا کہ وہ امن و امان سے متعلق قانونی اور یقینی اقدامات کریں گے۔

لیکن دوسری جانب محمود عباس کا کہنا ہے کہ وہ غرب اردن اور غزہ پر صدارتی حکم کے تحت حکومت کرتے رہیں گے۔ کچھ لوگوں کو یہ خدشہ بھی ہے کہ اب پرتشدد کارروائیاں غرب اردن میں بھی شروع ہو سکتی ہیں جہاں الفتح کا کنٹرول ہے۔

الفتح سے منسلک الاقصیٰ بریگیڈ نے ’مارشل لاء‘ کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہر جگہ الفتح کے لوگ تعینات کیے جائیں۔ گروپ کے ترجمان نے اپنے کارکنوں کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ انہیں چاہیئے کہ وہ ’غرب اردن کے تمام علاقوں میں حماس کو ایک غیر قانونی تنظیم کے طور پر دیکھیں اور اس کی ہر مسلح تحریک پر ہر قیمت پر قابو پائیں۔‘

ادھر امریکی صدر جارج بش نے غزہ میں پر تشدد کاروائیاں روکنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ علاقے میں بڑھتے ہوئے تشدد پر ’شدید فکرمند‘ ہیں۔

امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس نے صدر محمود عباس کی حمایت کا اعلان کیا ہے جبکہ برطانوی وزیر خارجہ مارگریٹ بیکٹ فلسطینی حکومت کی برخاستگی پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک مرتبہ پھر بندوق بردار انتہا پسندوں نے امن پر مبنی دو ریاستوں کی حامی اکثریت کی خواہشات کے برعکس علاقے میں ترقی اور بہتری کے سفر کو روک دیا ہے۔

یورپی یونین نے صدر محمود عباس کو حقیقی فلسطینی رہنما قرار دیا ہے۔

’فلسطین کا انتشار‘
غزہ میں خونریزی کے اثرات کیا ہوسکتے ہیں؟
حماس اور فتح کے درمیان جنگ جاریآپ کیا کہتے ہیں؟
حماس اور فتح کے درمیان لڑائی، آگے کیا ہوگا؟
غزہغزہ میں ہلاکتیں
غزہ پر اسرائیل کی فوج کے فضائی حملے
بے چابی قید خانہ
اسرائیل نے غزہ کو بے چابی ’قید خانہ‘ بنا دیا ہے
غزہ والوں کا خوف
لوگ جنگ کے ممکنہ خطرے سے پریشان ہیں
اسی بارے میں
غزہ تشدد :مزید 14ہلاک
16 May, 2007 | آس پاس
غزہ تشدد :مزید 13 ہلاک
15 May, 2007 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد