BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 16 June, 2007, 11:31 GMT 16:31 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فلسطینی پارلیمان پر الفتح کا حملہ
غزہ کے بعد اب غرب اردن میں بھی تشدد بھڑک اٹھا ہے
فلسطینی صدر محمود عباس کی جماعت الفتح کے سینکڑوں جنگجوؤں نے غرب اردن میں واقع پارلیمان سمیت حماس کے زیرکنٹرول اداروں پر دھاوا بول دیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق سنیچر کو جنگجوؤں نے رملہ میں فلسطینی قانون ساز اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر حسن خریشاہ کو اغواء کرنے کی کوشش کی لیکن کامیاب نہیں ہوئے۔ الفتح کے جنگجوؤں نے نابلس میں واقع حماس کے زیر کنٹرول کونسل پر بھی دھاوا بول دیا ہے۔

دریں اثناء امریکہ نے کہا ہے کہ اگر محمود عباس حماس کے بغیر حکومت بناتے ہیں تو فلسطینی انتظامیہ پر عائد تمام پابندیاں اگلے ہفتے تک ہٹالی جائیں گی۔

یروشلم میں امریکی کونسل جنرل جیکب ویلس نے کہا کہ نئی فلسطینی حکومت کو مکمل امریکی حمایت حاصل ہوگی اور کسی طرح کی رکاوٹ سامنے نہیں آئےگی۔ فلسطینی انتخابات میں حماس کی فتح کے بعد سے امریکہ اور یورپی یونین نے پابندیاں عائد کی تھیں۔

جمعرات کو غزہ پر حماس کا قبضہ ہوگیا تھا جبکہ غرب اردن میں الفتح کا کنٹرول ہے۔ غزہ پر قبضے کے بعد فلسطینی صدر محمود عباس نے اسماعیل ہنیہ کی حکومت کو برخاست کردیا تھا اور ایمرجنسی نافذ کردی گئی تھی۔

عرب لیگ کا غزہ مشن
 عرب لیگ کے وزرائے خارجہ نے سب فریقوں پر زور دیا کہ وہ صدر محمود عباس کے اختیارات کا احترام کریں۔ وزراء نے کہا کہ وہ غزہ میں تشدد کے حقائق جاننے کے لیے ایک مشن وہاں بھیجیں گے۔ انہں نے سودی عرب اور مصر کی طرف سے دونوں گروہوں میں ثالثی کرانے کی کوششوں کی بھی حمایت کی۔
دریں اثناء عرب لیگ کے وزرائے خارجہ نے قاہرہ میں ہونے والے ایک ہنگامی اجلاس میں غزہ میں ہونے والے تشدد کو ’مجرمانہ وارداتیں‘ کہتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ ایک بیان میں وزرائے خارجہ نے فلسطینی گروہوں سے کہا ہے کہ وہ فوراً لڑائی بند کر دیں۔

عرب لیگ کے وزرائے خارجہ نے سب فریقوں پر زور دیا کہ وہ صدر محمود عباس کے اختیارات کا احترام کریں۔ وزراء نے کہا کہ وہ غزہ میں تشدد کے حقائق جاننے کے لیے ایک مشن وہاں بھیجیں گے۔ انہں نے سودی عرب اور مصر کی طرف سے دونوں گروہوں میں ثالثی کرانے کی کوششوں کی بھی حمایت کی۔

اس سے قبل حماس کے ایک جلا وطن سیاسی رہنما نے کہا ہے کہ ان کی تحریک فلسطین کے صدر محمود عباس کے ساتھ کام کرتی رہے گی۔ شام میں مقیم خالد مشال نے حماس کے جنگجوؤں کے غزہ میں کنٹرول کے ایک روز بعد کہا کہ عباس ’جائز‘ صدر ہیں۔

تاہم حماس نے صدر محمود عباس کی طرف سے وزیرِ اعظم اسماعیل ہنیہ کو برخاست کرنے کے عمل کو غیر قانونی قرار دیا ہے۔ محمود عباس نے اسماعیل ہنیہ کی حکومت کو برخاست کرکے ان کی جگہ سلام فیاض کو وزیراعظم مقرر کیا۔ سلام فیاض اسماعیل ہنیہ کی مخلوط حکومت میں وزیر خزانہ تھے۔

صدر عباس نے سلام فیاض کو ہدایت کی ہے کہ وہ وزارتِ عظمیٰ کا چارج لے کر ایمرجنسی حکومت کا قیام عمل میں لائیں۔ فلسطینی اتھارٹی کے صدر کی طرف سے یہ اعلان اس وقت کیا گیا ہے جب چھ روز کی خونریز جھڑپوں کے بعد حماس نے محمود عباس کی حمایتی تنظیم الفتح کو شکست دے کر غزہ پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔

سلام فیاض
امریکہ سے معاشیات میں پی ایچ ڈی کرنے والے سلام فیاض ورلڈ بینک میں ملازم بھی رہے ہیں

دمشق میں بات کرتے ہوئے خالد میشال نے کہا کہ ’صدر عباس کے پاس ایک قانونی جواز ہے۔ وہ منتخب شدہ صدر ہیں اور ہم قومی مفاد میں ان کے ساتھ تعاون کرتے رہیں گے۔‘ حماس کے رہنما کا کہنا تھا کہ فلسطینی بحران کے لیے بین الاقوامی برادری خاص طور پر ذمہ دار ہے ہر چند کہ ہم فلسطینی بھی اس کے لیے خود کو معاف نہیں کر سکتے۔‘

خالد میشال نے کہا کہ بین الاقوامی برادری فلسطینیوں کے حقوق کو سمجھنے سے قاصر رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بین الاقوامی برادری نے جمہوریت کی زبان کا احترام نہیں کیا۔ ’بین الاقوامی برادری نہ مزاحمت کی زبان سمجھتی ہے اور نہ یہ اصول پہچانتی ہے کہ عوام کو اپنی حفاظت کے لیے خود کو آزاد کرانے کا حق ہے۔ بلکہ یہ برادری جمہوریت تو کجا قومی مفاہمت اور اتحاد کی حکومت کا احترام کرنے کے لیے تیار نہیں۔‘

دریں اثناء امریکہ، یورپی یونین، روس اور اقوام متحدہ نے محمود عباس کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ ادھر امریکی صدر جارج بش نے غزہ میں پر تشدد کاروائیاں روکنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ علاقے میں بڑھتے ہوئے تشدد پر ’شدید فکرمند‘ ہیں۔

’فلسطین کا انتشار‘
غزہ میں خونریزی کے اثرات کیا ہوسکتے ہیں؟
حماس اور فتح کے درمیان جنگ جاریآپ کیا کہتے ہیں؟
حماس اور فتح کے درمیان لڑائی، آگے کیا ہوگا؟
غزہغزہ میں ہلاکتیں
غزہ پر اسرائیل کی فوج کے فضائی حملے
بے چابی قید خانہ
اسرائیل نے غزہ کو بے چابی ’قید خانہ‘ بنا دیا ہے
غزہ والوں کا خوف
لوگ جنگ کے ممکنہ خطرے سے پریشان ہیں
اسی بارے میں
غزہ تشدد :مزید 14ہلاک
16 May, 2007 | آس پاس
غزہ تشدد :مزید 13 ہلاک
15 May, 2007 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد