فلسطینی پارلیمان پر الفتح کا حملہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فلسطینی صدر محمود عباس کی جماعت الفتح کے سینکڑوں جنگجوؤں نے غرب اردن میں واقع پارلیمان سمیت حماس کے زیرکنٹرول اداروں پر دھاوا بول دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق سنیچر کو جنگجوؤں نے رملہ میں فلسطینی قانون ساز اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر حسن خریشاہ کو اغواء کرنے کی کوشش کی لیکن کامیاب نہیں ہوئے۔ الفتح کے جنگجوؤں نے نابلس میں واقع حماس کے زیر کنٹرول کونسل پر بھی دھاوا بول دیا ہے۔ دریں اثناء امریکہ نے کہا ہے کہ اگر محمود عباس حماس کے بغیر حکومت بناتے ہیں تو فلسطینی انتظامیہ پر عائد تمام پابندیاں اگلے ہفتے تک ہٹالی جائیں گی۔ یروشلم میں امریکی کونسل جنرل جیکب ویلس نے کہا کہ نئی فلسطینی حکومت کو مکمل امریکی حمایت حاصل ہوگی اور کسی طرح کی رکاوٹ سامنے نہیں آئےگی۔ فلسطینی انتخابات میں حماس کی فتح کے بعد سے امریکہ اور یورپی یونین نے پابندیاں عائد کی تھیں۔ جمعرات کو غزہ پر حماس کا قبضہ ہوگیا تھا جبکہ غرب اردن میں الفتح کا کنٹرول ہے۔ غزہ پر قبضے کے بعد فلسطینی صدر محمود عباس نے اسماعیل ہنیہ کی حکومت کو برخاست کردیا تھا اور ایمرجنسی نافذ کردی گئی تھی۔
عرب لیگ کے وزرائے خارجہ نے سب فریقوں پر زور دیا کہ وہ صدر محمود عباس کے اختیارات کا احترام کریں۔ وزراء نے کہا کہ وہ غزہ میں تشدد کے حقائق جاننے کے لیے ایک مشن وہاں بھیجیں گے۔ انہں نے سودی عرب اور مصر کی طرف سے دونوں گروہوں میں ثالثی کرانے کی کوششوں کی بھی حمایت کی۔ اس سے قبل حماس کے ایک جلا وطن سیاسی رہنما نے کہا ہے کہ ان کی تحریک فلسطین کے صدر محمود عباس کے ساتھ کام کرتی رہے گی۔ شام میں مقیم خالد مشال نے حماس کے جنگجوؤں کے غزہ میں کنٹرول کے ایک روز بعد کہا کہ عباس ’جائز‘ صدر ہیں۔ تاہم حماس نے صدر محمود عباس کی طرف سے وزیرِ اعظم اسماعیل ہنیہ کو برخاست کرنے کے عمل کو غیر قانونی قرار دیا ہے۔ محمود عباس نے اسماعیل ہنیہ کی حکومت کو برخاست کرکے ان کی جگہ سلام فیاض کو وزیراعظم مقرر کیا۔ سلام فیاض اسماعیل ہنیہ کی مخلوط حکومت میں وزیر خزانہ تھے۔ صدر عباس نے سلام فیاض کو ہدایت کی ہے کہ وہ وزارتِ عظمیٰ کا چارج لے کر ایمرجنسی حکومت کا قیام عمل میں لائیں۔ فلسطینی اتھارٹی کے صدر کی طرف سے یہ اعلان اس وقت کیا گیا ہے جب چھ روز کی خونریز جھڑپوں کے بعد حماس نے محمود عباس کی حمایتی تنظیم الفتح کو شکست دے کر غزہ پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔
دمشق میں بات کرتے ہوئے خالد میشال نے کہا کہ ’صدر عباس کے پاس ایک قانونی جواز ہے۔ وہ منتخب شدہ صدر ہیں اور ہم قومی مفاد میں ان کے ساتھ تعاون کرتے رہیں گے۔‘ حماس کے رہنما کا کہنا تھا کہ فلسطینی بحران کے لیے بین الاقوامی برادری خاص طور پر ذمہ دار ہے ہر چند کہ ہم فلسطینی بھی اس کے لیے خود کو معاف نہیں کر سکتے۔‘ خالد میشال نے کہا کہ بین الاقوامی برادری فلسطینیوں کے حقوق کو سمجھنے سے قاصر رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بین الاقوامی برادری نے جمہوریت کی زبان کا احترام نہیں کیا۔ ’بین الاقوامی برادری نہ مزاحمت کی زبان سمجھتی ہے اور نہ یہ اصول پہچانتی ہے کہ عوام کو اپنی حفاظت کے لیے خود کو آزاد کرانے کا حق ہے۔ بلکہ یہ برادری جمہوریت تو کجا قومی مفاہمت اور اتحاد کی حکومت کا احترام کرنے کے لیے تیار نہیں۔‘ دریں اثناء امریکہ، یورپی یونین، روس اور اقوام متحدہ نے محمود عباس کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ ادھر امریکی صدر جارج بش نے غزہ میں پر تشدد کاروائیاں روکنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ علاقے میں بڑھتے ہوئے تشدد پر ’شدید فکرمند‘ ہیں۔ |
اسی بارے میں کابینہ کے بائیکاٹ کی دھمکی13 June, 2007 | آس پاس غزہ تشدد :مزید 14ہلاک16 May, 2007 | آس پاس استعفے کے بعد غزہ بحران شدید14 May, 2007 | آس پاس غزہ تشدد :مزید 13 ہلاک15 May, 2007 | آس پاس روس کا حماس کی قیادت سے وعدہ28 February, 2007 | آس پاس برطانوی سفیر کا حماس سے رابطہ06 April, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||