BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 18 June, 2007, 18:02 GMT 23:02 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اقتصادی پابندی ختم، تعاون بحال
محمود عباس اور صدر بش کے درمیان پندرہ منٹ تک ٹیلی فون پر گفتگو ہوئی
امریکہ نے فلسطینی حکومت پر گزشتہ پندرہ ماہ سے عائد اقتصادی پابندی ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی وزیرِ خارجہ کونڈولیزا رائس نے کہا کہ امریکہ فلسطینی انتظامیہ کی بھرپور امداد بحال کر دے گا اور حکومتی سطح پر باہمی رابطہ بحال ہو جائے گا۔

اس اعلان سے پہلے کئی اہم ممالک نے کھلے عام حماس کے بغیر فلسطین میں نئی انتظامیہ کی حمایت کرتے ہوئے اسے امداد اور تعاون کی پیشکش کی۔

امریکی صدر جارج بش نے فلسطینی رہنما محمود عباس سے ٹیلی فون پر بات کی اور انہیں یقین دلایا کہ امریکی انتظامیہ ان کی نئی حکومت کے ساتھ کام کرے گی۔

یورپی اتحاد کا کہنا ہے کہ وہ فوری طور پر نئی فلسطینی حکومت سے تعلقات معمول کے مطابق لے آئے گی اور اس کی مدد بحال کر دے گی۔

ادھر اسرائیل نے کہا ہے کہ نئی فلسطینی کابینہ ایک پارٹنر کی حیثیت رکھتی ہے۔

محمود عباس نے حماس کی جانب سے غزہ پر کنٹرول حاصل کرنے کے بعد پرانی انتظامیہ کو برطرف کر کے فیاض اسلام کو وزیرِ اعظم مقرر کیا تھا۔

صدر بش نے پندرہ منٹ تک محمود عباس سے بات کی جس میں فلسطین کے صدر نے انہیں کہا کہ اب امن مذاکرات کو آگے بڑھانے کا مناسب وقت آ گیا ہے۔

یروشلم میں امریکہ کے قونصل جنرل نے نئے فلسطینی وزیرِ اعظم سے ملاقات کی اور انہیں بتایا کہ امریکہ کس طرح فلسطینی انتظامیہ کو تعاون اور امداد فراہم کر سکتا ہے۔

اسرائیلی وزیرِ اعظم ایہود اولمرٹ نے جو منگل کو واشنگٹن میں صدر بش سے ملاقات کرنے والے ہیں، کہا نئی فلسطینی انتظامیہ حقیقی معنوں میں ’پارٹنر‘ ہے۔

لکزمبرگ میں اسرائیلی وزیرِ خارجہ نے اس بات کی تصدیق کی کہ اسرائیل نے آٹھ سو ملین ڈالر کی جو رقم منجمد کر رکھی ہے وہ فلسطینی اتھارٹی کو منتقل کر دی جائے گی۔

اس سے قبل فلسطین کے نئے وزیرِ اعظم نے کہا تھا کہ ان کی حکومت کو ’کریڈیبیلیٹی‘ یا معتبری کا مسئلہ درپیش ہے لیکن اس کے باوجود وہ واحد قانونی انتظامیہ ہے۔

سلام فیاض نے بی بی سی کو بتایا کہ سیکورٹی بحال کرنا ان کی پہلی ترجیح ہو گی۔

انہوں نے کہا کہ ان کی ہنگامی کابینہ کو درپیش مسئلے کی جڑ ماضی میں لاقانونیت کو روکنے میں ناکامی ہے۔

انہوں نے کہا کہ امن مذاکارت اس وقت ہی کار آمد ہو سکتے ہیں جب سب کو یہ پتہ ہو کہ صرف ایک ہی جائز فلسطینی قومی انتظامیہ ہے۔

’مجھے ڈر ہے کہ جب تک کہ یہ پوری طرح سمجھ نہیں آ جاتا، اور اس کے لیے ہو سکتا ہے کہ تھوڑا سوچ کو بدلنا پڑے، اس وقت تک ہم مذاکرات کے ایک دور سے دوسرے دور میں الجھتے رہیں گے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’مجھے اس میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔‘

اس سے قبل فلسطینی صدر محمود عباس نے نئی ہنگامی کابینہ سے حلف لیا۔ اس نئی حکومت میں ان کا حریف دھڑہ حماس شامل نہیں جس کا غزہ پر کنٹرول ہے اور فتح کا بھی صرف ایک وزیر ہےْ باقی سب آزاد امیدوار ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد