BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 01 July, 2007, 21:26 GMT 02:26 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
منجمدٹیکس فنڈز کی فراہمی شروع
نئی فلسطینی انتظامیہ
اسرائیل نے نئی فلسطینی انتظامیہ سے تعاون کا یقین دلایا ہے
اسرائیل نے فلسطینی انتظامیہ کو سترہ ماہ کے بائیکاٹ کے بعد منجمد ٹیکس فنڈز کی فراہمی شروع کر دی ہے۔

اسرائیلی حکام کے مطابق پہلی قسط کے طور پر قریباً ایک سو سترہ ملین ڈالر کی رقم دی گئی ہے۔

حکام کے مطابق یہ قسط اتوار کو جاری کی گئی اور فلسطینی حکام نے اس کی وصولی کی تصدیق کی ہے۔ اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ آنے والے چند دن میں مزید رقم دی جائے گی۔

اسرائیلی وزیراعظم ایہود اولمرت کی ترجمان مری ایسن کا کہنا ہے’ اسرائیل نئی فلسطینی حکومت کی مدد کے لیے پرعزم ہے اور اس سے اقتصادی اور حفاظتی شعبوں میں تعاون کرے گا‘۔

ایک فلسطینی افسر کا کہنا ہے’ اسرائیل نے ہمیں یقین دہائی کروائی ہے کہ وہ ہر ماہ پچاس سے ساٹھ ملین ڈالر کے فنڈز دیں گے اور وہ بقایا جات بھی ادا کریں گے‘۔

تاہم ٹیکس کی اصل رقم پر اسرائیلی اور فلسطی حکام میں تضاد پایا جاتا ہے۔ فلسطینی حکام کے مطابق ٹیکس فنڈز کی کل رقم سات سو ملین ڈالر ہے جبکہ اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ ان کے پاس موجود ٹیکس فنڈز پانچ سو ملین ڈالر کے قریب ہیں۔

اسرائیلی حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس رقم میں سے تین سے چار سو ملین ڈالر ہی فلسطینی حکام کو دے جا سکتے ہیں کیونکہ فلسطینی قرضوں کی ادائیگی کے حوالے سے ایک عدالتی حکم پر کچھ رقم منجمد بھی کی گئی ہے۔

 ٹیکس کی اصل رقم پر اسرائیلی اور فلسطی حکام میں تضاد پایا جاتا ہے۔ فلسطینی حکام کے مطابق ٹیکس فنڈز کی کل رقم سات سو ملین ڈالر ہے جبکہ اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ ان کے پاس موجود ٹیکس فنڈز پانچ سو ملین ڈالر کے قریب ہیں۔

اسرائیل نے جنوری 2006 میں حماس کی کامیابی کے بعد ٹیکسوں کے ذریعے جمع ہونے والی رقم روک لی تھی اور ٹیکسوں کی رقم کے انجماد اور مغرب کی جانب سے اقتصادی پابندیوں کی وجہ سے فلسطینی حکومت دیوالیہ ہونے کے قریب پہنچ گئی تھی اور اس نے قریباً اٹھارہ ماہ تک سرکاری ملازموں کو بھی پوری تنخواہ ادا نہیں کی تھی۔

حماس کی حکومت کے خاتمے کے بعد اسرائیلی وزیراعظم نے یہ فنڈز بحال کرنے کا اعلان کیا تھا۔ فلسطینی انتظامیہ کے معزول وزیراعظم حماس کے اسماعیل ہنیہ نے اسرائیل کے اس اعلان کو’بلیک میلنگ‘ اور سیاسی استحصال قرار دیا تھا۔

یاد رہے کہ اسرائیل فلسطینی حکومت کے لیے کسٹم ڈیوٹی اور ٹیکس فنڈ جمع کرتا ہے اور یہ رقم فلسطینی حکومت کے بجٹ کے قریباً نصف کے برابر ہوتی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد