رشوت سے فلسطین کے سودے کا منصوبہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سن انیس سو تینتالیس کی ایک خفیہ دستاویز منظر عام پر آنے سے پتہ لگا ہے کہ اس وقت کےاسرائیلی رہنما چائم ویزمین نے برطانوی رہنما ونسٹن چرچل کو تجویز کیا کہ سعودی بادشاہ عبدالعزیز ابن سعود کو بیس ملین پاؤنڈ کی رشوت دے کر فلسطین کو یہویوں کے حوالے کردیا جائے۔ چرچل نے بظاہر اس منصوبے میں ذاتی طور پر دلچسپی ظاہر کی لیکن برطانیہ کے اس وقت کے وزیر خارجہ اینتھونی ایڈن نے اس منصوبے پر شدید ردعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے چرچل کو ایک خط لکھ کر یہ یاد دلایا کہ ایسا منصوبہ نہ صرف برطانوی پالیسی کے خلاف ہے بلکہ فلسطین پر 1939 کا لندن وائٹ پیپر واضح طور پر فلسطین کو یہودی ریاست بنانے کے خلاف ہے۔ چرچل نے اپنے وزیر کا غصہ ٹھنڈا کرنے کے لیے جواباً انہیں لکھا کہ انہوں نے ایسے منصوبے پر ویزمین سے صرف بات کی تھی اور اس کا مقصد صرف اس موضوع پر بحث کرنا تھا۔ فلسطین کے حوالے سے یہ منصوبہ ڈاکٹر ویزمین نے ونسٹن چرچل کے سامنے رکھا تھا۔ ویزمین اس زمانے میں یہودی ایجنسی کے سربراہ تھے۔ ونسٹن چرچل کو یہودیوں کی جدوجہد سے ہمدردی تھی اور وہ انیس سو سترہ کے بیلفر ڈیکلریشن کے بھی حمایتی تھے جس میں یہودیوں کے لیے قومی سطح پر گھروں کا قیام تجویز کیا گیا تھا۔ لیکن اینتھونی ایڈن جو سفارتی آداب کے ماہر تھے واشنگٹن سے ملنے والی ان اطلاعات پر ناراضں ہوگئے کہ ڈاکٹر ویزمین نے صدر روُزویلٹ کے ایک مشیر سے بات چیت کے دوران فلسطینی پلان کو ’پی ایم پلان‘ کہا ہے۔ انہوں نے ونسٹن چرچل کو لکھا ’مجھے نہیں پتا کہ ڈاکٹر ویزمین کو آپ کی طرف سے بات کرنے کا اختیار کس حد تک ہے لیکن واشنگٹن میں جو غیر مبہم صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے میں اس سے پریشان ہوں۔‘ انہوں نے کہا کہ برطانیہ کی فلسطینی پالیسی کو پارلیمان پہلے ہی منظور ہو چکی ہے۔ اینتھونی ایڈن نے یہ کہا کہ انیس سو انتالیس میں فلسطین پر جاری ہونے والے لندن وائٹ پیپر میں واضح طور پر درج تھا کہ فلسطین کو یہودی ریاست نہیں بننے دیا جائے گا۔ جواب میں ونسٹن چرچل نے اینتھونی ایڈن کو لکھا: ’ڈاکٹرویزمین کو میری جانب سے بات کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔ کچھ روز پہلے اس موضوع پر بات ہوئی تھی جس میں میں نے فلسطین پر اپنے ان خیالات کا ذکر کیا تھا جو خود آپ میری زبان سے بھی سن چکے ہیں۔‘ چرچل نے یہ بات تسلیم کی کہ اگر سڑسٹھ سالہ بادشاہ کو رشوت دے کر اس بات پر مائل کر بھی لیا جائے کہ فلسطین کو یہودی لے لیں تو بھی اس بات کا امکان کم ہے کہ بادشاہ اس منصوبے کی تکمیل تک زندہ ہی نہ رہے۔ ’اصل مسئلہ شاہ ابنِ سعود کی عمر ہے۔‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس معاملے پر سب باتیں ابھی قبل از وقت ہیں اور ان پر بات چیت سے صرف اختلافات ہی پیدا ہوں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||