| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
’فلسطینی ہوتی تو خودکش بمبارہوتی‘
برطانیہ کی حزب اختلاف کی جماعت لبرل ڈیموکریٹ سے تعلق رکھنے والی ایک رکن پارلیمان نے کہا ہے کہ اگر وہ فلسطینی ہوتیں تو وہ بھی خوکش حملہ آور ہوتیں۔ عالمی ترقی کی سابق ترجمان اور لبرل ڈیموکریٹ کی رکن پارلیمان ڈاکٹر جینی ٹونگ کو اس بیان کی وجہ سے اسرائیلی نواز رکن پارلیمان کی طرف سے شدید تنقید کا سامنا ہے جنہوں نے لبرل ڈیموکریٹ کے سربراہ چارلس کینیڈی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مسئلہ میں مداخلت کریں۔ اسرائیلی نواز رکن پارلیمان چارلس کینیڈی سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ ڈاکٹر جینی ٹونگ کو اپنا بیان واپس لینے پر مجبور کریں۔ تاہم ڈاکٹر جینی ٹونگ اپنے بیان پر قائم ہیں اور انہوں نے کہا ہے کہ وہ خوکش حملہ آوروں کی حمایت نہیں کر رہی بلکہ وہ ان حالات کا ادراک کرسکتی ہیں جو لوگوں کو خودکش حملہ کرنے کے فیصلہ پر مجبور کر دیتے ہیں۔ ڈاکٹر ٹونگ نے جو اگلے انتخابات میں حصہ لینے کا ارادہ نہیں رکھتی فلسطینیوں کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے یہ بیان دیا۔ انہوں نےکہا کہ وہ اس بات کا اندازہ کرسکتی ہیں کہ اسرائیل میں فلسطینوں کے لیے زندگی کتنی مشکل اور ناقابل برداشت ہے۔ ڈاکٹر ٹونگ نے اپنے اوپر ہونے والی تنقید کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ فلسطینوں کے پاس اپنا دفاع کرنے کے لیے سوائے پتھروں اور خودکش حملہ آوروں کے اور کچھ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس صورت حال کا فلسطینوں کو روزآنہ سامنا کرنا پڑتا ہے وہ انہوں خودکش حملہ آور بننے پر مجور کر دیتی ہے۔ اپنے بیان کی مزید وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر ان کے بچوں نے اور بچوں کے بچوں کو کئی دہائیوں تک اسی صورت حال کا سامنا کرنا پڑتا تو وہ خود کش حملے کرنے پرتیار ہو جاتیں۔ ’اگر مجھے بھی اس صورت حال کا سامنا کرنا پڑتا تو میں بھی شاید اپنے آپ کو بم سے ختم کرلینے پر آمادہ ہوجاتی۔‘ متبادل وزیر خارجہ مائیکل اینکریم نے کہا کہ یہ بیان دنیا بھر میں ان تمام لوگوں کے لیے تکلیف دہ ہے جن کے رشتہ دار خودکش بم حملوں کا نشانہ بن چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ معصوم لوگوں کی جانیں لینے کا کوئی جواز نہیں ہوسکتا اور ڈاکٹر ٹونگ کے اس بیان نے انہیں حیران کر دیا ہے۔ لبرل ڈیموکریٹ نےفوراً ہی اس بیان سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ڈاکٹر ٹونگ کے ذاتی خیالات ہیں ان سے جماعت کا کوئی تعلق نہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||