امریکہ کا خیال ہے کہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امن معاہدہ اس سال کے اختتام تک ممکن ہے۔ خطے کے اپنے دورے کے دوران امریکی وزیر خارجہ نے غربِ اردن میں اسرائیل کی آبادکاری کی سرگرمیوں کو پریشان کن قرار دیا ۔اسرائیلی وزیر خارجہ زیپی لوینی نے اس بات پر زور دیا کہ اسرائیل قیامِ امن کی اپنی ذمہ داریوں کو نبھائے گا اور یہ کہ کوئی نئی بستی آباد نہیں کی جا رہی۔ امریکی صدر جارج بش جنوری میں اپنے عہدے کی مدت ختم ہو نے تک امن معاہدے کی توقع کر رہے ہیں۔ محترمہ رائس کے اس دورے کا مقصد اس ماہ کے آخر میں صدر بش کے دورے کے لیے راہ ہموار کرنا ہے۔گزشتہ نومبر میں صدر بش کی جانب سے شروع کیے گئے قیام امن کے عمل میں کوئی خاص پیش رفت نہیں ہو سکی ہے۔ محترمے رائس اتوار کی صبح غربِ اردن کے شہر رملّہ پہنچیں فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس کے ساتھ ملاقات کے بعد انہوں نے کہا کہ امریکہ کے خیال میں یہودی بستیوں کی تعمیر اس اعتماد اور بھروسے کے لیے درست نہیں جوامن مذاکرات کے لیے ضروری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس کے باوجود بھی اس سال کے آخر تک معاہدہ ممکن ہو سکتا ہے۔اس کے بعد امریکی وزیر خارجہ محترمہ لینی کے ساتھ مذاکرات کے لیے یروشلم روانہ ہو گئیں۔ ملاقات کے بعد ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں محترمہ لینی نے کہا کہ ان کی حکومت کا ’کوئی خفیہ ایجنڈا‘ نہیں ہے۔ انہوں نے سنہ 2005 میں غزہ سے اسرائیلی انخلاء کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ یہودی بستیاں امن کے لیے مسئلہ نہیں ہیں۔پیر کو محترمہ رائس اسرائیلی وزیراعظم ایہود اولمرت سے ملاقات کریں گی۔ امریکی انتظامیہ کو امید ہے کہ اسے فلسطین اور اسرائیل کے درمیان امن معاہدہ کرانے میں کامیابی حاصل ہو سکتی ہے لیکن نامہ نگاروں کا خیال ہے کہ وقت ہاتھوں سے نکل رہا ہے۔ |