2008: فلسطین کا سال؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آیا سال 2008 میں خود مختار فلسطین ریاست کا قیام ممکن ہوگا یا ایک بار پھر نومبر میں ہونے والی ایناپولس امن کانفرنس ایک تاریک صبح ثابت ہوگي؟ بش نئے سال کے اوائل میں مشرقی وسطیٰ کا دورہ کرنے والے ہيں جو امن مشن کو آگے بڑھانے کی ان کی ذاتی خواہش کی علامت ہے۔ بحرحال ان کے لیے یہ کوشش آسان نہیں ہوگی کیونکہ خطے میں ان کی کوششوں کو شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ ایران، عراق اور لبنان میں موجودہ صورت حال کے قطع نظر بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ مشرق وسطیٰ میں حالات بہت جلد بہتر ہو سکتے ہیں۔ سرکردہ امریکی امن ایلچی ڈینس روس ابھی تک یہ نتیجہ نہیں نکال پائے ہیں کہ ایناپولس امن کانفرنس ایک مخلص کوشش تھی یا ڈھونگ۔ واضح رہے کہ نومبر میں ہونے والی ایناپولس امن کانفرنس صدر جارج بش اور وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس کی طرف سے منعقد کی گئی تھی۔ دسمبر میں ٹرانس اٹلانک انسٹی ٹیوٹ میں منعقدہ ایک کانفرنس میں برسلز کے ایک سرکردہ تجزيہ کار نے سوال اٹھایا کہ آیا بش انتظامیہ نے خطے میں معنی خیز امن کے لیے واقعی کوشش کی تھی۔ ان کا کہنا تھا’ اصل میں جب تبدیلیاں نظر آئیں گی تب ہی عوام کو یقین ہوگا کا خطے میں امن بحال ہورہا ہے‘۔
ایناپولیس امن کانفرنس میں اسرائیل کے وزیر اعظم یہود المرٹ اور فلسطین ریاست کے صدر محمود عباس نے وعدہ کیا تھا کہ دو ہزار آٹھ کے آخر تک ’دو ریاستوں‘ کے قیام کے لیے وہ مسلسل بات چيت کریں گے۔ لیکن دیکھنا یہ ہے کہ آیا یہ دونوں رہنما اس نصب العین کو پورا کر پائیں گے۔ واشنگٹن انسٹی ٹیوٹ کے ڈیوڈ مکووسکی کا کہنا ہےکہ تاریخ میں یہ پہلی بار ہوا ہے کہا اسرائیل ور فسلطین میں ایسے لیڈر ہیں جو ایک دوسرے پر اعتبار کرتے ہيں۔ لیکن بعض مبصرین کا کہنا ہےکہ دونوں رہنما سیاسی طور پر امن سے متعلق بڑے فیصلے لینے کے لیے بہت کمزور ہيں۔ ایک اسرائیلی اکیڈیمک اور سابق انٹیلجنس افسراوراہم سیلا کا کہنا ہےکہ اگر امن کی کوششوں میں اسلامی تحریک چلانے والی حماس کو الگ کیا جاتا ہے تو اس کا منفی اثر پڑ سکتا ہے۔ بقول سیلا فلسطین ریاست کو مغربی کنارے سے چلانے والی فتح عملی طور پر ختم ہوچکی ہے۔اس لیے مغرب کی کوشش وقت کی بربادی ہے۔
کانفرنس میں دوسرے چیلنچوں کا بھی ذکر کیا گيا جس میں آبادی کی تقسیم سے لے کر جوہری توسیع کے معاملات شامل تھے۔ ایک سابق برطانوی سفارت کار سر مارک ایلن کا کہنا ہےکہ بیس سو پچاس میں مشرقی وسطیٰ کی آبادی چار سو تیس ملین سے بڑھ کر سات سو بیس ملین ہوجائے گی۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہےکہ امریکی انتظامیہ کی جانب سے جمہوری عمل کو فروغ دینے سے خطے میں بہتر نتائج سامنے آئیں گے۔ |
اسی بارے میں فلسطینی قیدیوں کی رہائی پر غور24 December, 2007 | آس پاس نئی فلسطینی انتظامیہ کا حلف17 June, 2007 | صفحۂ اول ہانیہ، عباس بات چیت اردن میں26 December, 2006 | صفحۂ اول لبنان کا بحران: آپ کے سوال ، ہمارے جواب20 July, 2006 | صفحۂ اول فلسطینی ریاست پر ریفرینڈم06 June, 2006 | صفحۂ اول حماس سے مذاکرات نہیں: اسرائیل27 January, 2006 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||